Narrated Abu Sufyan, from Ibn Abbas, who said: Abu Sufyan told me directly, saying: I set out during the truce period between me and the Messenger of Allah (peace be upon him). While I was in Syria, a letter from the Prophet (peace be upon him) was brought to Heraclius. Dihyah al-Kalbi had brought it and delivered it to the governor of Busra, who forwarded it to Heraclius. Heraclius said: "Is there anyone here from the people of this man who claims to be a prophet?" They said: "Yes." I was summoned along with a group of Quraysh, and we were brought before Heraclius, who seated us before him. He said: "Which of you is closest in lineage to this man who claims to be a prophet?" Abu Sufyan said: "I said: 'I am.'" So they seated me before him and seated my companions behind me. Then he called his interpreter and said: "Tell them that I am going to ask this man about the one who claims to be a prophet, and if he lies, they should expose his lie." Abu Sufyan said: "By Allah, were it not that they would record a lie against me, I would have lied." Then he said to his interpreter: "Ask him — what is his lineage among you?" I said: "He is of noble lineage among us." He asked: "Was any of his forefathers a king?" I said: "No." "Did you used to accuse him of lying before he said what he said?" I said: "No." "Do the nobles follow him or the weak?" I said: "Rather the weak." "Are they increasing or decreasing?" I said: "They are increasing." "Does anyone renounce his religion after entering it out of displeasure?" I said: "No." "Have you fought him?" I said: "Yes." "How was your fighting with him?" I said: "The war between us and him has been back and forth — he gains from us and we gain from him." "Does he betray?" I said: "No, and we are in a truce with him now and do not know what he will do." He said: "By Allah, that was the only statement I could insert something into." "Has anyone said this before him?" I said: "No." Then he said to his interpreter: "Tell him: I asked you about his lineage, and you claimed he is of noble lineage. Likewise, messengers are sent from the noblest lineage of their people. I asked you if any of his forefathers was a king, and you said no. I said if one of his forefathers had been a king, he would be a man seeking his father's kingdom. I asked you about his followers — are they the weak or the nobles? You said the weak, and they are the followers of the messengers. I asked you if you used to accuse him of lying before he said what he said, and you said no. I knew that he would not refrain from lying to people only to go and lie about Allah. I asked you if anyone leaves his religion after entering it out of displeasure, and you said no. Such is faith when it mingles with the joy of hearts. I asked you if they increase or decrease, and you said they increase. Such is faith until it is complete. I asked you if you fought him, and you said you did, and that the war between you is back and forth. Likewise, the messengers are tested, then the final outcome is theirs. I asked you if he betrays, and you said no. Likewise, the messengers do not betray. I asked you if anyone said this before him, and you said no. I said if anyone had said it before him, he would be a man following something said before him." Then he asked: "What does he command you?" I said: "He commands us to pray, give charity, maintain family ties, and be chaste." He said: "If what you say is true, then he is a prophet. I knew he was about to appear, but I did not think he would be from among you. If I knew I could reach him, I would go to meet him. And if I were with him, I would wash his feet. His dominion will reach what is beneath my feet." Then he called for the letter of the Messenger of Allah (peace be upon him) and read it. It said: "In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Heraclius, the ruler of Rome. Peace be upon whoever follows the guidance. To proceed: I invite you with the invitation of Islam. Accept Islam and you will be safe, accept Islam and Allah will give you a double reward. If you turn away, then upon you is the sin of the peasants. 'O People of the Scripture, come to a word that is equitable between us and you — that we will not worship except Allah' [Aal Imran: 64] until His saying, 'Bear witness that we are Muslims.'" When he finished reading the letter, voices rose and there was much commotion around him, and we were ordered out. I said to my companions when we left: "The affair of Ibn Abi Kabshah has grown great — the king of the Byzantines fears him." I continued to be certain that the affair of the Messenger of Allah (peace be upon him) would prevail, until Allah guided me to Islam.
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ سے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے براہ راست بیان کیا، انہوں نے بتلایا کہ جس مدت میں میرے اور رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے درمیان صلح (حدیبیہ) تھی، میں (سفرِ تجارت پر) گیا ہوا تھا اور شام میں تھا کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمکا خط ہرقل کے پاس پہنچا؛ انہوں نے بیان کیا کہ سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ وہ خط لائے تھے اور عظیمِ بصریٰ کے حوالے کر دیا تھا اور ہرقل کے پاس اسی سے پہنچا تھا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہرقل نے پوچھا: کیا ہمارے حدودِ سلطنت میں اس شخص کی قوم کے بھی کچھ لوگ ہیں جو نبی ہونے کا دعویدار ہے؟ درباریوں نے بتایا کہ جی ہاں موجود ہیں۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر مجھے قریش کے چند دوسرے آدمیوں کے ساتھ بلایا گیا، ہم ہرقل کے دربار میں داخل ہوئے اور اس کے سامنے ہمیں بٹھا دیا گیا۔ اس نے پوچھا: تم لوگوں میں اس شخص سے زیادہ قریب کون ہے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ میں زیادہ قریب ہوں۔ اب درباریوں نے مجھے بادشاہ کے بالکل قریب بٹھا دیا اور میرے دوسرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا۔ اس کے بعد ترجمان کو بلایا اور اس سے ہرقل نے کہا کہ انہیں بتاؤ کہ میں اس شخص کے بارے میں تم سے کچھ سوالات کروں گا، جو نبی ہونے کا دعویدار ہے، اگر یہ (یعنی ابوسفیان رضی اللہ عنہ) جھوٹ بولے تو تم اس کے جھوٹ کو ظاہر کر دینا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ اللہ کی قسم! اگر مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ میرے ساتھی کہیں میرے متعلق جھوٹ بولنا نقل نہ کر دیں تو میں (آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے بارے میں) ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ جس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ اپنے نسب میں کیسے ہیں؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ان کا نسب ہم میں بہت ہی عزت والا ہے۔ اس نے پوچھا: کیا ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ بیان کیا کہ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے پوچھا: تم نے دعویِٰ نبوت سے پہلے کبھی ان پر جھوٹ کی تہمت لگائی تھی؟ میں نے کہا: نہیں۔ پوچھا: ان کی پیروی معزز لوگ زیادہ کرتے ہیں یا کمزور؟ میں نے کہا کہ قوم کے کمزور لوگ زیادہ ہیں۔ اس نے پوچھا: ان کے ماننے والوں میں زیادتی ہوتی رہتی ہے یا کمی؟ میں نے کہا کہ نہیں بلکہ زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ پوچھا: کبھی ایسا بھی کوئی واقعہ پیش آیا ہے کہ کوئی شخص ان کے دین کو قبول کرنے کے بعد پھر ان سے بدگمان ہو کر ان سے پھر گیا ہو؟ میں نے کہا: ایسا بھی کبھی نہیں ہوا۔ اس نے پوچھا: تم نے کبھی ان سے جنگ بھی کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ اس نے پوچھا: تمہاری ان کے ساتھ جنگ کا کیا نتیجہ رہا؟ میں نے کہا کہ ہماری جنگ کی مثال ایک ڈول کی ہے کہ کبھی ان کے ہاتھ میں اور کبھی ہمارے ہاتھ میں۔ اس نے پوچھا: کبھی انہوں نے تمہارے ساتھ کوئی دھوکا بھی کیا؟ میں نے کہا کہ اب تک تو نہیں کیا، لیکن آج کل بھی ہمارا ان سے ایک معاہدہ چل رہا ہے، نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں ان کا طرزِ عمل کیا رہے گا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! اس جملہ کے سوا اور کوئی بات میں اس پوری گفتگو میں اپنی طرف سے نہیں ملا سکا، پھر اس نے پوچھا: اس سے پہلے بھی یہ دعویٰ تمہارے یہاں کسی نے کیا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے کہو کہ میں نے تم سے نبی کے نسب کے بارے میں پوچھا تو تم نے بتایا کہ وہ تم لوگوں میں باعزت اور اونچے نسب کے سمجھے جاتے ہیں، انبیاء کا بھی یہی حال ہے، ان کی بعثت ہمیشہ قوم کے صاحبِ حسب و نسب خاندان میں ہوتی ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا کوئی ان کے باپ دادوں میں بادشاہ گزرا ہے، تو تم نے اس کا انکار کیا، میں اس سے اس فیصلہ پر پہنچا کہ اگر ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اپنی خاندانی سلطنت کو اس طرح واپس لینا چاہتے ہوں اور میں نے تم سے ان کی اتباع کرنے والوں کے متعلق پوچھا کہ آیا وہ قوم کے کمزور لوگ ہیں یا اشراف، تو تم نے بتایا کہ کمزور لوگ ان کی پیروی کرنے والوں میں (زیادہ) ہیں، یہی طبقہ ہمیشہ سے انبیاء کی اتباع کرتا رہا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے دعویِٰ نبوت سے پہلے ان پر جھوٹ کا کبھی شبہ کیا تھا، تو تم نے اس کا بھی انکار کیا، میں نے اس سے یہ سمجھا کہ جس شخص نے لوگوں کے معاملہ میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو، وہ اللہ کے معاملے میں کس طرح جھوٹ بول دے گا اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے دین کو قبول کرنے کے بعد پھر ان سے بدگمان ہو کر کوئی شخص ان کے دین سے کبھی پھرا بھی ہے، تو تم نے اس کا بھی انکار کیا، ایمان کا یہی اثر ہوتا ہے جب وہ دل کی گہرائیوں میں اتر جائے؛ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی رہتی ہے یا کم ہوتی ہے، تو تم نے بتایا کہ ان میں اضافہ ہی ہوتا ہے، ایمان کا یہی معاملہ ہے، یہاں تک کہ وہ کمال کو پہنچ جائے؛ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے کبھی ان سے جنگ بھی کی ہے؟ تو تم نے بتایا کہ جنگ کی ہے اور تمہارے درمیان لڑائی کا نتیجہ ایسا رہا ہے کہ کبھی تمہارے حق میں اور کبھی ان کے حق میں، انبیاء کا بھی یہی معاملہ ہے، انہیں آزمائشوں میں ڈالا جاتا ہے اور آخر انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ اس نے تمہارے ساتھ کبھی خلافِ عہد بھی معاملہ کیا ہے تو تم نے اس سے بھی انکار کیا، انبیاء کبھی عہد کے خلاف نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تمہارے یہاں اس طرح کا دعویٰ پہلے بھی کسی نے کیا تھا؟ تو تم نے کہا کہ پہلے کسی نے اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا، میں اس سے اس فیصلے پر پہنچا کہ اگر کسی نے تمہارے یہاں اس سے پہلے اس طرح کا دعویٰ کیا ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ بھی اس کی نقل کر رہے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر ہرقل نے پوچھا: وہ تمہیں کن چیزوں کا حکم دیتے ہیں؟ میں نے کہا: نماز، زکوٰۃ، صلہ رحمی اور پاکدامنی کا۔ آخر اس نے کہا کہ جو کچھ تم نے بتایا ہے اگر وہ صحیح ہے تو یقیناً وہ نبی ہیں، اس کا علم تو مجھے بھی تھا کہ ان کی نبوت کا زمانہ قریب ہے لیکن یہ خیال نہ تھا کہ وہ تمہاری قوم میں ہوں گے، اگر مجھے ان تک پہنچ سکنے کا یقین ہوتا تو میں ضرور ان سے ملاقات کرتا اور اگر میں ان کی خدمت میں ہوتا تو ان کے قدموں کو دھوتا اور ان کی حکومت میرے ان دو قدموں تک پہنچ کر رہے گی۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اس نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا خط منگوایا اور اسے پڑھا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا:«بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ»”اللہ، رحمن رحیم کے نام سے شروع کرتا ہوں۔“”اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف سے عظیمِ روم ہرقل کی طرف، سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ امابعد! میں تمہیں اسلام کی طرف بلاتا ہوں، اسلام لاؤ تو سلامتی پاؤ گے اور اسلام لاؤ تو اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا، لیکن تم نے اگر منہ موڑا تو تمہاری رعایا (کے کفر کا بار بھی سب) تم پر ہوگا۔“اور﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِکَ بِهٖ شَیْئًا وَلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰه فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ﴾[سورة آل عمران: 64]”اے کتاب والو! ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہم میں اور تم میں برابر ہے، وہ یہ کہ ہم سوائے اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں اور نہ اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں۔“جب ہرقل خط پڑھ چکا تو دربار میں بڑا شور برپا ہو گیا اور پھر ہمیں دربار سے باہر کر دیا گیا۔ باہر آ کر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابنِ ابی کبشہ کا معاملہ تو اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ملک بنی الاصفر (ہرقل) بھی ان سے ڈرنے لگا۔ اس واقعہ کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمغالب آ کر رہیں گے اور آخر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی روشنی میرے دل میں بھی ڈال ہی دی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1162]
Narrated Abu Sufyan, from Ibn Abbas, who said: Abu Sufyan told me directly, saying: I set out during the truce period between me and the Messenger of Allah (peace be upon him). While I was in Syria, a letter from the Prophet (peace be upon him) was brought to Heraclius. Dihyah al-Kalbi had brought it and delivered it to the governor of Busra, who forwarded it to Heraclius. Heraclius said: "Is there anyone here from the people of this man who claims to be a prophet?" They said: "Yes." I was summoned along with a group of Quraysh, and we were brought before Heraclius, who seated us before him. He said: "Which of you is closest in lineage to this man who claims to be a prophet?" Abu Sufyan said: "I said: 'I am.'" So they seated me before him and seated my companions behind me. Then he called his interpreter and said: "Tell them that I am going to ask this man about the one who claims to be a prophet, and if he lies, they should expose his lie." Abu Sufyan said: "By Allah, were it not that they would record a lie against me, I would have lied." Then he said to his interpreter: "Ask him — what is his lineage among you?" I said: "He is of noble lineage among us." He asked: "Was any of his forefathers a king?" I said: "No." "Did you used to accuse him of lying before he said what he said?" I said: "No." "Do the nobles follow him or the weak?" I said: "Rather the weak." "Are they increasing or decreasing?" I said: "They are increasing." "Does anyone renounce his religion after entering it out of displeasure?" I said: "No." "Have you fought him?" I said: "Yes." "How was your fighting with him?" I said: "The war between us and him has been back and forth — he gains from us and we gain from him." "Does he betray?" I said: "No, and we are in a truce with him now and do not know what he will do." He said: "By Allah, that was the only statement I could insert something into." "Has anyone said this before him?" I said: "No." Then he said to his interpreter: "Tell him: I asked you about his lineage, and you claimed he is of noble lineage. Likewise, messengers are sent from the noblest lineage of their people. I asked you if any of his forefathers was a king, and you said no. I said if one of his forefathers had been a king, he would be a man seeking his father's kingdom. I asked you about his followers — are they the weak or the nobles? You said the weak, and they are the followers of the messengers. I asked you if you used to accuse him of lying before he said what he said, and you said no. I knew that he would not refrain from lying to people only to go and lie about Allah. I asked you if anyone leaves his religion after entering it out of displeasure, and you said no. Such is faith when it mingles with the joy of hearts. I asked you if they increase or decrease, and you said they increase. Such is faith until it is complete. I asked you if you fought him, and you said you did, and that the war between you is back and forth. Likewise, the messengers are tested, then the final outcome is theirs. I asked you if he betrays, and you said no. Likewise, the messengers do not betray. I asked you if anyone said this before him, and you said no. I said if anyone had said it before him, he would be a man following something said before him." Then he asked: "What does he command you?" I said: "He commands us to pray, give charity, maintain family ties, and be chaste." He said: "If what you say is true, then he is a prophet. I knew he was about to appear, but I did not think he would be from among you. If I knew I could reach him, I would go to meet him. And if I were with him, I would wash his feet. His dominion will reach what is beneath my feet." Then he called for the letter of the Messenger of Allah (peace be upon him) and read it. It said: "In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Heraclius, the ruler of Rome. Peace be upon whoever follows the guidance. To proceed: I invite you with the invitation of Islam. Accept Islam and you will be safe, accept Islam and Allah will give you a double reward. If you turn away, then upon you is the sin of the peasants. 'O People of the Scripture, come to a word that is equitable between us and you — that we will not worship except Allah' [Aal Imran: 64] until His saying, 'Bear witness that we are Muslims.'" When he finished reading the letter, voices rose and there was much commotion around him, and we were ordered out. I said to my companions when we left: "The affair of Ibn Abi Kabshah has grown great — the king of the Byzantines fears him." I continued to be certain that the affair of the Messenger of Allah (peace be upon him) would prevail, until Allah guided me to Islam.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھ سے سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے براہ راست بیان کیا، انہوں نے بتلایا کہ جس مدت میں میرے اور رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے درمیان صلح (حدیبیہ) تھی، میں (سفرِ تجارت پر) گیا ہوا تھا اور شام میں تھا کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمکا خط ہرقل کے پاس پہنچا؛ انہوں نے بیان کیا کہ سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ وہ خط لائے تھے اور عظیمِ بصریٰ کے حوالے کر دیا تھا اور ہرقل کے پاس اسی سے پہنچا تھا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہرقل نے پوچھا: کیا ہمارے حدودِ سلطنت میں اس شخص کی قوم کے بھی کچھ لوگ ہیں جو نبی ہونے کا دعویدار ہے؟ درباریوں نے بتایا کہ جی ہاں موجود ہیں۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر مجھے قریش کے چند دوسرے آدمیوں کے ساتھ بلایا گیا، ہم ہرقل کے دربار میں داخل ہوئے اور اس کے سامنے ہمیں بٹھا دیا گیا۔ اس نے پوچھا: تم لوگوں میں اس شخص سے زیادہ قریب کون ہے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ میں زیادہ قریب ہوں۔ اب درباریوں نے مجھے بادشاہ کے بالکل قریب بٹھا دیا اور میرے دوسرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا۔ اس کے بعد ترجمان کو بلایا اور اس سے ہرقل نے کہا کہ انہیں بتاؤ کہ میں اس شخص کے بارے میں تم سے کچھ سوالات کروں گا، جو نبی ہونے کا دعویدار ہے، اگر یہ (یعنی ابوسفیان رضی اللہ عنہ) جھوٹ بولے تو تم اس کے جھوٹ کو ظاہر کر دینا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ اللہ کی قسم! اگر مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ میرے ساتھی کہیں میرے متعلق جھوٹ بولنا نقل نہ کر دیں تو میں (آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے بارے میں) ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ جس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ اپنے نسب میں کیسے ہیں؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ان کا نسب ہم میں بہت ہی عزت والا ہے۔ اس نے پوچھا: کیا ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ بیان کیا کہ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے پوچھا: تم نے دعویِٰ نبوت سے پہلے کبھی ان پر جھوٹ کی تہمت لگائی تھی؟ میں نے کہا: نہیں۔ پوچھا: ان کی پیروی معزز لوگ زیادہ کرتے ہیں یا کمزور؟ میں نے کہا کہ قوم کے کمزور لوگ زیادہ ہیں۔ اس نے پوچھا: ان کے ماننے والوں میں زیادتی ہوتی رہتی ہے یا کمی؟ میں نے کہا کہ نہیں بلکہ زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ پوچھا: کبھی ایسا بھی کوئی واقعہ پیش آیا ہے کہ کوئی شخص ان کے دین کو قبول کرنے کے بعد پھر ان سے بدگمان ہو کر ان سے پھر گیا ہو؟ میں نے کہا: ایسا بھی کبھی نہیں ہوا۔ اس نے پوچھا: تم نے کبھی ان سے جنگ بھی کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ اس نے پوچھا: تمہاری ان کے ساتھ جنگ کا کیا نتیجہ رہا؟ میں نے کہا کہ ہماری جنگ کی مثال ایک ڈول کی ہے کہ کبھی ان کے ہاتھ میں اور کبھی ہمارے ہاتھ میں۔ اس نے پوچھا: کبھی انہوں نے تمہارے ساتھ کوئی دھوکا بھی کیا؟ میں نے کہا کہ اب تک تو نہیں کیا، لیکن آج کل بھی ہمارا ان سے ایک معاہدہ چل رہا ہے، نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں ان کا طرزِ عمل کیا رہے گا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! اس جملہ کے سوا اور کوئی بات میں اس پوری گفتگو میں اپنی طرف سے نہیں ملا سکا، پھر اس نے پوچھا: اس سے پہلے بھی یہ دعویٰ تمہارے یہاں کسی نے کیا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے کہو کہ میں نے تم سے نبی کے نسب کے بارے میں پوچھا تو تم نے بتایا کہ وہ تم لوگوں میں باعزت اور اونچے نسب کے سمجھے جاتے ہیں، انبیاء کا بھی یہی حال ہے، ان کی بعثت ہمیشہ قوم کے صاحبِ حسب و نسب خاندان میں ہوتی ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا کوئی ان کے باپ دادوں میں بادشاہ گزرا ہے، تو تم نے اس کا انکار کیا، میں اس سے اس فیصلہ پر پہنچا کہ اگر ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اپنی خاندانی سلطنت کو اس طرح واپس لینا چاہتے ہوں اور میں نے تم سے ان کی اتباع کرنے والوں کے متعلق پوچھا کہ آیا وہ قوم کے کمزور لوگ ہیں یا اشراف، تو تم نے بتایا کہ کمزور لوگ ان کی پیروی کرنے والوں میں (زیادہ) ہیں، یہی طبقہ ہمیشہ سے انبیاء کی اتباع کرتا رہا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے دعویِٰ نبوت سے پہلے ان پر جھوٹ کا کبھی شبہ کیا تھا، تو تم نے اس کا بھی انکار کیا، میں نے اس سے یہ سمجھا کہ جس شخص نے لوگوں کے معاملہ میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو، وہ اللہ کے معاملے میں کس طرح جھوٹ بول دے گا اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے دین کو قبول کرنے کے بعد پھر ان سے بدگمان ہو کر کوئی شخص ان کے دین سے کبھی پھرا بھی ہے، تو تم نے اس کا بھی انکار کیا، ایمان کا یہی اثر ہوتا ہے جب وہ دل کی گہرائیوں میں اتر جائے؛ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی رہتی ہے یا کم ہوتی ہے، تو تم نے بتایا کہ ان میں اضافہ ہی ہوتا ہے، ایمان کا یہی معاملہ ہے، یہاں تک کہ وہ کمال کو پہنچ جائے؛ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے کبھی ان سے جنگ بھی کی ہے؟ تو تم نے بتایا کہ جنگ کی ہے اور تمہارے درمیان لڑائی کا نتیجہ ایسا رہا ہے کہ کبھی تمہارے حق میں اور کبھی ان کے حق میں، انبیاء کا بھی یہی معاملہ ہے، انہیں آزمائشوں میں ڈالا جاتا ہے اور آخر انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ اس نے تمہارے ساتھ کبھی خلافِ عہد بھی معاملہ کیا ہے تو تم نے اس سے بھی انکار کیا، انبیاء کبھی عہد کے خلاف نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تمہارے یہاں اس طرح کا دعویٰ پہلے بھی کسی نے کیا تھا؟ تو تم نے کہا کہ پہلے کسی نے اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا، میں اس سے اس فیصلے پر پہنچا کہ اگر کسی نے تمہارے یہاں اس سے پہلے اس طرح کا دعویٰ کیا ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ بھی اس کی نقل کر رہے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر ہرقل نے پوچھا: وہ تمہیں کن چیزوں کا حکم دیتے ہیں؟ میں نے کہا: نماز، زکوٰۃ، صلہ رحمی اور پاکدامنی کا۔ آخر اس نے کہا کہ جو کچھ تم نے بتایا ہے اگر وہ صحیح ہے تو یقیناً وہ نبی ہیں، اس کا علم تو مجھے بھی تھا کہ ان کی نبوت کا زمانہ قریب ہے لیکن یہ خیال نہ تھا کہ وہ تمہاری قوم میں ہوں گے، اگر مجھے ان تک پہنچ سکنے کا یقین ہوتا تو میں ضرور ان سے ملاقات کرتا اور اگر میں ان کی خدمت میں ہوتا تو ان کے قدموں کو دھوتا اور ان کی حکومت میرے ان دو قدموں تک پہنچ کر رہے گی۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اس نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا خط منگوایا اور اسے پڑھا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا:«بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ»”اللہ، رحمن رحیم کے نام سے شروع کرتا ہوں۔“”اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف سے عظیمِ روم ہرقل کی طرف، سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ امابعد! میں تمہیں اسلام کی طرف بلاتا ہوں، اسلام لاؤ تو سلامتی پاؤ گے اور اسلام لاؤ تو اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا، لیکن تم نے اگر منہ موڑا تو تمہاری رعایا (کے کفر کا بار بھی سب) تم پر ہوگا۔“اور﴿قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِکَ بِهٖ شَیْئًا وَلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰه فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ﴾[سورة آل عمران: 64]”اے کتاب والو! ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہم میں اور تم میں برابر ہے، وہ یہ کہ ہم سوائے اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں اور نہ اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہی رب بنائیں۔ پس اگر وہ منہ پھیر لیں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں۔“جب ہرقل خط پڑھ چکا تو دربار میں بڑا شور برپا ہو گیا اور پھر ہمیں دربار سے باہر کر دیا گیا۔ باہر آ کر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابنِ ابی کبشہ کا معاملہ تو اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ملک بنی الاصفر (ہرقل) بھی ان سے ڈرنے لگا۔ اس واقعہ کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمغالب آ کر رہیں گے اور آخر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی روشنی میرے دل میں بھی ڈال ہی دی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1162]