Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ بُنْدَارٍ الزَّاهِدُ قَالَا أَنْبَأَ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَمْرٍو السَّكْسَكِيُّ ثَنَا أَبِي ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «مَنْ طَلَبَ مَا عِنْدَ اللَّهِ كَانَتِ السَّمَاءُ ظِلَالَهُ وَالْأَرْضُ فِرَاشَهُ لَمْ يَهْتَمَّ بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا فَهُوَ لَا يَزْرَعُ الزَّرْعَ وَهُوَ يَأْكُلُ الْخُبْزَ وَهُوَ لَا يَغْرِسُ الشَّجَرَ وَيَأْكُلُ الثِّمَارَ تَوَكُّلًا عَلَى اللَّهِ تَعَالَى وَطَلَبًا لِمَرْضَاتِهِ فَضَمَّنَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ رِزْقَهُ فَهُمْ يَتْعَبُونَ فِيهِ وَيَأْتُونَ بِهِ حَلَالًا وَيَسْتَوْفِي هُوَ رِزْقَهُ بِغَيْرِ حِسَابٍ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى حَتَّى أَتَاهُ الْيَقِينُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ لِلشَّامِيِّينَ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بل منكر أو موضوع
English Translation
Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Whoever seeks what is with Allah, the sky will be his shade and the earth his bed. He will not worry about anything of worldly affairs. He does not cultivate crops yet eats bread, he does not plant trees yet eats fruits — placing his trust in Allah, the Exalted, and seeking His pleasure. So Allah guarantees him provision through the seven heavens and the seven earths. People toil for it and bring it to him lawfully, while he receives his provision without reckoning from Allah, the Exalted, until certainty (death) comes to him." This is a hadith with an authentic chain for the Syrians, though neither [al-Bukhari nor Muslim] recorded it. Rather, it is munkar (rejected) or fabricated.
Urdu Translation
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «جس نے اللہ کے ہاں جو کچھ ہے اسے طلب کیا تو آسمان اس کا سایہ ہوگا اور زمین اس کا بستر۔ وہ دنیا کے کسی معاملے کی فکر نہیں کرے گا۔ وہ کھیتی نہیں بوتا مگر روٹی کھاتا ہے، درخت نہیں لگاتا مگر پھل کھاتا ہے — اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اور اس کی رضا چاہتے ہوئے۔ تو اللہ نے سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اس کا رزق ذمے لیا۔ لوگ اس میں محنت کرتے ہیں اور اسے حلال لا کر دیتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بے حساب اپنا رزق پاتا ہے یہاں تک کہ اسے یقین (موت) آ جائے۔» یہ حدیث شامیوں کی سند سے صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ بلکہ یہ منکر یا موضوع ہے۔
