Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ، وَهْوَ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ، فَمَرَّ بِنَفَرٍ مِنَ الْيَهُودِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ تَسْأَلُوهُ لاَ يُسْمِعْكُمْ مَا تَكْرَهُونَ. فَقَامُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا يَا أَبَا الْقَاسِمِ حَدِّثْنَا عَنِ الرُّوحِ. فَقَامَ سَاعَةً يَنْظُرُ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، فَتَأَخَّرْتُ عَنْهُ حَتَّى صَعِدَ الْوَحْىُ، ثُمَّ قَالَ {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي}.
English Translation
Muhammad bin Ubayd bin Maymun narrated to us, he said Isa bin Yunus narrated to us, from al-A'mash, from Ibrahim al-Nakha'i (upon him be mercy), from Alqamah, from Hadrat Abdullah bin Mas'ud (may Allah be well pleased with him), who said: I was with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) in one of the fields of Madinah Munawwarah while he was leaning on a palm branch. Some Jews passed by, and some of them said: "Ask him about the spirit." Others said: "Do not ask him, lest he tell you something you dislike." Eventually they came to him and said: "O Abu al-Qasim! Tell us about the spirit." The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stood for a while, looking. I understood that revelation was being sent down upon him. I moved back until the revelation was complete. Then he recited: "And they ask you about the spirit. Say: The spirit is from the command of my Lord" (al-Isra' 17:85).
Urdu Translation
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک کھیت میں تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھجور کی ایک شاخ کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ کچھ یہودی ادھر سے گزرے تو ان میں سے بعض نے کہا: ان سے روح کے بارے میں پوچھو۔ اور بعض نے کہا: نہ پوچھو، کہیں ایسی بات نہ سنا دیں جو تمہیں ناپسند ہو۔ بالآخر وہ لوگ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے ابوالقاسم! ہمیں روح کے بارے میں بتائیے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر کھڑے رہے اور دیکھتے رہے۔ میں سمجھ گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ میں پیچھے ہٹ گیا، یہاں تک کہ وحی کا نزول مکمل ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت فرمائی: «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي» (اور آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، فرما دیجیے: روح میرے رب کے حکم سے ہے)۔
