Sahih al-BukhariFighting for the Cause of Allah (Jihaad)#2788Sahih
Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَطْعَمَتْهُ وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ. قَالَتْ فَقُلْتُ وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ، أَوْ مِثْلُ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ". شَكَّ إِسْحَاقُ. قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ. قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ " أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ". فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ.
English Translation
It is narrated by Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) who states: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) used to visit Hadrat Umm Haram bint Milhan (may Allah be well pleased with her) and she would offer him food. Umm Haram was the wife of Hadrat Ubada bin al-Samit (may Allah be well pleased with him). One day, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to her, she served him food and began removing lice from his blessed head. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) fell asleep and then woke up smiling. She submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), what makes you smile? He stated: "Some people of my Ummah were presented before me, warriors in the path of Allah, riding upon the waves of this sea, like kings upon thrones, or similar to kings upon thrones." (The narrator Ishaq was uncertain.) She submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), supplicate to Allah that He makes me one of them. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) supplicated for her, then laid down his blessed head and fell asleep again, then woke up smiling. She submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), what makes you smile? He stated: "Some people of my Ummah were presented before me, warriors in the path of Allah" — as he had said the first time. She submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), supplicate to Allah that He makes me one of them. He stated: "You are among the first ones." Hadrat Umm Haram (may Allah be well pleased with her) sailed upon the sea during the time of Hadrat Mu'awiya bin Abi Sufyan (may Allah be well pleased with him), and she fell from her mount upon disembarking from the sea and passed away.
Urdu Translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت اُمّ حرام بنت ملحان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کھانا کھلایا کرتی تھیں۔ اُمّ حرام حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ تھیں۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کھانا کھلایا اور آپ کے سرِ مبارک سے جوئیں نکالنے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سو گئے، پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ ارشاد فرمایا: "میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے تھے، اس سمندر کی لہروں پر سوار تھے، تختوں پر بادشاہوں کی طرح بیٹھے تھے، یا بادشاہوں کی مانند تختوں پر تھے۔" (راوی اسحاق کو شک ہے۔) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیے کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی، پھر اپنا سرِ مبارک رکھا اور سو گئے، پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ ارشاد فرمایا: "میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے، اللہ کے راستے میں غازی تھے۔" جیسا کہ پہلے فرمایا تھا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیے کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ ارشاد فرمایا: "تم پہلے والوں میں سے ہو۔" حضرت اُمّ حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں سمندری سفر پر نکلیں، پھر سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر پڑیں اور شہید ہو گئیں۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (14)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ كَا…
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَطْعَمَتْهُ وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ. قَالَتْ فَقُلْتُ وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ، مُلُوكًا عَلَى الأَسِرَّةِ، أَوْ مِثْلُ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ". شَكَّ إِسْحَاقُ. قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ فَقُلْتُ وَمَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ، غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". كَمَا قَالَ فِي الأَوَّلِ. قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ " أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ". فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ، فَهَلَكَتْ.
It is narrated by Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) who states: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) used to visit Hadrat Umm Haram bint Milhan (may Allah be well pleased with her) and she would offer him food. Umm Haram was the wife of Hadrat Ubada bin al-Samit (may Allah be well pleased with him). One day, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to her, she served him food and began removing lice from his blessed head. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) fell asleep and then woke up smiling. She submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), what makes you smile? He stated: "Some people of my Ummah were presented before me, warriors in the path of Allah, riding upon the waves of this sea, like kings upon thrones, or similar to kings upon thrones." (The narrator Ishaq was uncertain.) She submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), supplicate to Allah that He makes me one of them. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) supplicated for her, then laid down his blessed head and fell asleep again, then woke up smiling. She submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), what makes you smile? He stated: "Some people of my Ummah were presented before me, warriors in the path of Allah" — as he had said the first time. She submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), supplicate to Allah that He makes me one of them. He stated: "You are among the first ones." Hadrat Umm Haram (may Allah be well pleased with her) sailed upon the sea during the time of Hadrat Mu'awiya bin Abi Sufyan (may Allah be well pleased with him), and she fell from her mount upon disembarking from the sea and passed away.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت اُمّ حرام بنت ملحان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے اور وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کھانا کھلایا کرتی تھیں۔ اُمّ حرام حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ تھیں۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کھانا کھلایا اور آپ کے سرِ مبارک سے جوئیں نکالنے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سو گئے، پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ ارشاد فرمایا: "میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کے راستے میں جہاد کر رہے تھے، اس سمندر کی لہروں پر سوار تھے، تختوں پر بادشاہوں کی طرح بیٹھے تھے، یا بادشاہوں کی مانند تختوں پر تھے۔" (راوی اسحاق کو شک ہے۔) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیے کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی، پھر اپنا سرِ مبارک رکھا اور سو گئے، پھر مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ ارشاد فرمایا: "میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے، اللہ کے راستے میں غازی تھے۔" جیسا کہ پہلے فرمایا تھا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرمائیے کہ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ ارشاد فرمایا: "تم پہلے والوں میں سے ہو۔" حضرت اُمّ حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں سمندری سفر پر نکلیں، پھر سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر پڑیں اور شہید ہو گئیں۔