Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهُ إِلاَّ جَعَلَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جَبْهَتُهُ وَجَنْبُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلاَفِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلاَ جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَتْ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لاَ يُؤَدِّي حَقَّهَا إِلاَّ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا كُلَّمَا مَضَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولاَهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يُرَى سَبِيلُهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ " .
English Translation
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'No owner of a treasure (gold and silver) who fails to pay its due (zakat) -- but that Allah will have it heated in the Fire of Jahannam on the Day of Judgment, and his forehead, his side, and his back will be branded with it, until Allah pronounces judgment among His servants on a Day the span of which will be fifty thousand years by your reckoning; then he will be shown his path, either to Paradise or to the Fire. And no owner of sheep who fails to pay their due (zakat) -- but that they will come on the Day of Judgment more plentiful and fatter than ever, and he will be laid out for them on a smooth, flat plain; they will gore him with their horns and trample him with their hooves; none of them will have crooked horns nor be hornless; whenever the last of them passes over him, the first will be brought back upon him -- until Allah pronounces judgment among His servants on a Day the span of which will be fifty thousand years by your reckoning; then he will be shown his path, either to Paradise or to the Fire. And no owner of camels who fails to pay their due (zakat) -- but that they will come on the Day of Judgment more plentiful and fatter than ever, and he will be laid out for them on a smooth, flat plain; they will trample him with their feet; whenever the last of them passes over him, the first will be brought back upon him -- until Allah pronounces judgment among His servants on a Day the span of which will be fifty thousand years by your reckoning; then he will be shown his path, either to Paradise or to the Fire.'
Urdu Translation
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص خزانے (سونے چاندی) کا مالک ہو اور اس کا حق (زکاۃ) ادا نہ کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے جہنم کی آگ میں تپائے گا پھر اس سے اس کی پیشانی، اس کی پسلی اور اس کی پشت کو داغا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان ایسے دن میں فیصلہ فرما دے گا جس کی مدت تمہارے (دنیاوی) حساب سے پچاس ہزار سال ہو گی، پھر اسے اپنا راستہ دکھایا جائے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ اور جو شخص بکریوں کا مالک ہو اور ان کا حق (زکاۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ بکریاں اپنی پوری تعداد سے بھی زیادہ فربہ ہو کر آئیں گی، پھر اسے ایک ہموار چٹیل میدان میں ڈالا جائے گا، وہ بکریاں اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی، ان میں نہ کوئی ٹیڑھے سینگ والی ہو گی اور نہ بے سینگ والی، جب ان کی آخری گزر چکے گی تو پہلی پھر لوٹائی جائے گی (اور یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان ایسے دن میں فیصلہ فرما دے جس کی مدت تمہارے حساب سے پچاس ہزار سال ہو گی، پھر اسے اپنا راستہ دکھایا جائے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ اور جو شخص اونٹوں کا مالک ہو اور ان کا حق (زکاۃ) ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ اونٹ اپنی پوری تعداد سے بھی زیادہ فربہ ہو کر آئیں گے، پھر اسے ایک ہموار چٹیل میدان میں ڈالا جائے گا، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب ان کا آخری گزر چکے گا تو پہلا پھر لوٹایا جائے گا (اور یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان ایسے دن میں فیصلہ فرما دے گا جس کی مدت تمہارے حساب سے پچاس ہزار سال ہو گی، پھر اسے اپنا راستہ دکھایا جائے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔
