العربية (الأصل)
نَا نَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ:" إِذَا كَانَ أَجَلُ رَجُلٍ بِأَرْضٍ أُثْبِتَ لَهُ بِهَا حَاجَةٌ، فَإِذَا بَلَغَ أَقْصَى أَجَلِهِ قَضَى أَجَلَهُ قُبِضَ، فَتَقُولُ الأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: يَا رَبِّ، هَذَا مَا اسْتَوْدَعْتَنِي".
الترجمة الإنجليزية
'Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: "When a person's appointed time of death is in a certain land, a need is created for him there. When his lifespan reaches its end, his soul is taken. Then on the Day of Resurrection, that land will say: 'O my Lord, this is the one You entrusted to me.'"
الترجمة الأردية
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب کسی شخص کی موت کسی زمین میں مقدر ہو جاتی ہے تو وہاں اس کے لیے کوئی ضرورت پیدا کر دی جاتی ہے، پھر جب اس کی زندگی کی مدت پوری ہو جاتی ہے تو وہ اپنا وقت پورا کر کے وفات پا جاتا ہے، پھر قیامت کے دن وہ زمین کہے گی: اے میرے رب! یہ وہی ہے جسے تو نے میرے سپرد کیا تھا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 894]
