العربية (الأصل)
حدَّثناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا الحسين بن عبد الله بن يزيد القَطَّان الرَّقّي بالرَّقّة، حدثنا عبد الرحمن بن حماد أبو بكر الواسطي، حدثنا خالد بن عبد الله بن خالد الواسطي، عن حُميد بن هلال(2)، عن أبي بُردة، عن أبي موسى(3)، عن عوف بن مالك: أنهم كانوا مع النبي ﷺ في بعض مغازيه، قال عوف: فسمعتُ خَلْفي هَزِيزًا كَهَزيزِ الرَّحَى، فإذا أنا بالنبي ﷺ، فقلت: إنَّ النبي ﷺ إذا كان في أرض العدوِّ كان عليه الحرسُ، فقال رسول الله ﷺ:"أتاني آتٍ من ربي يخيِّرني بين أن يُدخِلَ شَطْرَ أُمَّتي الجنة وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعة"، فقال معاذ بن جبل: يا رسول الله، قد عرفتَ قِوَائي فاجعَلْني منهم، قال:"أنت منهم"، قال عوف بن مالك: يا رسول الله، قد عرفت أنا تَرَكْنا قومَنا وأموالنا رَغَبًا لله ولرسوله، فاجعَلْنا منهم، قال:"أنت منهم"، فانتهينا إلى القوم وقد ثارُوا، فقال النبي ﷺ:"اقعُدُوا" فقعدوا، كأنه لم يَقُمْ أحد منهم، قال:"أتاني آتٍ من ربي فخيَّرني بين أن يُدخِلَ شطرَ أمَّتي الجنة وبين الشفاعةِ، فاخترتُ الشفاعة" فقالوا: يا رسول الله، اجعلنا منهم، فقال:"هي لمن مات لا يُشرِكُ بالله شيئًا"(1).
الترجمة الإنجليزية
Awf ibn Malik narrated that during one of the Prophet's expeditions, he heard a buzzing sound behind him like that of a millstone, and there was the Prophet (peace be upon him). He said: "The Prophet (peace be upon him) is in enemy territory, so he should have a guard." The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "A messenger came to me from my Lord giving me the choice between half of my Ummah entering Paradise and intercession. I chose intercession, and it is for whoever dies without associating anything with Allah."
الترجمة الأردية
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ہمراہ ایک غزوے میں تھے، عوف کہتے ہیں کہ میں نے اپنے پیچھے چکی چلنے جیسی گونج سنی تو دیکھا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لا رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپ دشمن کی سرزمین میں ہوں تو آپ پر پہرہ ہونا چاہیے۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے اس بات میں اختیار دیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں داخل کر دی جائے یا مجھے شفاعت کا حق ملے، تو میں نے شفاعت کو منتخب کیا۔“سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ میری (ایمان کی) پختگی کو جانتے ہیں، مجھے ان شفاعت پانے والوں میں شامل فرما دیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم ان میں سے ہو۔“عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ جانتے ہیں کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر اپنے گھر بار اور مال و دولت کو چھوڑا ہے، ہمیں بھی ان میں شامل فرما دیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم بھی ان میں سے ہو۔“پھر ہم باقی لوگوں کے پاس پہنچے تو وہ بیدار ہو گئے، نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بیٹھ جاؤ“تو وہ سب بیٹھ گئے گویا ان میں سے کوئی اٹھا ہی نہ تھا۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے آدھی امت کی جنت یا شفاعت کے درمیان اختیار دیا، تو میں نے شفاعت کو چن لیا۔“صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں ان میں شامل فرما دیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔“[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 226]
