حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ " . قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَجْزِي عَنِّي وَإِلاَّ صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ . قَالَتْ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ . قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجَتِي حَاجَتُهَا - قَالَتْ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ - قَالَتْ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلاَلٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلاَنِكَ أَتَجْزِي الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا وَلاَ تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ - قَالَتْ - فَدَخَلَ بِلاَلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هُمَا " . فَقَالَ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىُّ الزَّيَانِبِ " . قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Zainab, the wife of Hadrat 'Abdullah (b. Mas'ud ), reported that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated:0 women, give sadaqa even though it be some of your jewellery. She returned to Hadrat 'Abdullah and said: You are a person with empty hands, whereas the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) has commanded us to give sadaqa, so better go to him and ask and if this will suffice for me; otherwise I shall give it to someone else. Hadrat 'Abdullah said to me (his wife): You better go yourself. So I went and there was another woman of the Ansar at the door of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) having the same porpose as I had. Now Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) was invested with awe (so we did not like to knock). Then Hadrat Bilal came out and we said to him: Go to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and inform him that there are two women at the door asking him whether it will serve them to give sadaqa to their spouses and to orphans who are under their charge, but do not inform him who we are. Hadrat Bilal went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and asked him (what these women had instructed him to ask). The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) inquired him who these women were. He (Hadrat Bilal) said: They are women from Ansar and Hadrat Zainab. Upon this the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Which of the Zainabs? He said: The wife of Hadrat 'Abdullah. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: There are two rewards for them, the reward of kinship and the reward of Sadaqa
الترجمة الأردية
ابواحوص نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے عمرو بن حارث سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( بنت عبداللہ بن ابی حضرت معاویہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، اگرچہ اپنے زیورات سے ہی کیوں نہ ہو ۔ " کہا : تو میں ( اپنے خاوند ) عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس واپس آئی اور کہا : تم کم مایا آدمی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے ، لہذا تم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے پوچھ لو اگراس ( کو تمھیں دینے ) سے میری طرف سے ادا ہوجائےگا ( تو ٹھیک ) ورنہ میں اے تمھارے علاوہ دوسروں کی طرف بھیج دو گی ، کہا : تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : بلکہ تم خود ہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلی جاؤ ۔ انھوں نے کہا : میں گئی تو اس وقت ایک اور انصاری عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر کھڑی تھی اور ( مسئلہ دریافت کرنے کے حوالے سے ) اسکی ضرورت بھی وہی تھی جو میری تھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ہیبت عطا کی گئی تھی ۔ کہا : حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکل کر ہماری طرف آئے تو ہم نے ان سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بتاؤ کے درواز ے پر دو عور تیں ہیں آپ سے پوچھ رہی ہیں کہ ان کی طرف سے ان کے خاوندوں اور ان یتیم بچوں پر جوا ن کی کفالت میں ہیں ، صدقہ جائز ہے؟اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کویہ نہ بتاناکہ ہم کون ہیں ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : وہ دونوں کون ہیں؟ " انھوں نے کہا : ایک انصاری عورت ہے اور ایک زینب ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : " زینبوں میں سے کون سی؟ " انھوں نے کہا : عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا : " ان کے لئے دو اجر ہیں : ( ایک ) قرابت نبھانے کا اجر اور ( دوسرا ) صدقہ کرنے کا اجر ۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "تصدقن يا معشر النساء ولو من حليكن" قالت: فرجعت إلى عبد الله بن مسعود فقلت له: إنك رجل خفيف ذات اليد وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أمرنا بالصدقة فأته، فاسأله، فإن كان ذلك يج…
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ " . قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ يَجْزِي عَنِّي وَإِلاَّ صَرَفْتُهَا إِلَى غَيْرِكُمْ . قَالَتْ فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ . قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَاجَتِي حَاجَتُهَا - قَالَتْ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ - قَالَتْ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلاَلٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبِرْهُ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ بِالْبَابِ تَسْأَلاَنِكَ أَتَجْزِي الصَّدَقَةُ عَنْهُمَا عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا وَلاَ تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ - قَالَتْ - فَدَخَلَ بِلاَلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هُمَا " . فَقَالَ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَزَيْنَبُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَىُّ الزَّيَانِبِ " . قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ " .
Hadrat Zainab, the wife of Hadrat 'Abdullah (b. Mas'ud ), reported that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated:0 women, give sadaqa even though it be some of your jewellery. She returned to Hadrat 'Abdullah and said: You are a person with empty hands, whereas the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) has commanded us to give sadaqa, so better go to him and ask and if this will suffice for me; otherwise I shall give it to someone else. Hadrat 'Abdullah said to me (his wife): You better go yourself. So I went and there was another woman of the Ansar at the door of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) having the same porpose as I had. Now Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) was invested with awe (so we did not like to knock). Then Hadrat Bilal came out and we said to him: Go to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and inform him that there are two women at the door asking him whether it will serve them to give sadaqa to their spouses and to orphans who are under their charge, but do not inform him who we are. Hadrat Bilal went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and asked him (what these women had instructed him to ask). The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) inquired him who these women were. He (Hadrat Bilal) said: They are women from Ansar and Hadrat Zainab. Upon this the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Which of the Zainabs? He said: The wife of Hadrat 'Abdullah. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: There are two rewards for them, the reward of kinship and the reward of Sadaqa
ابواحوص نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے عمرو بن حارث سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) کی بیوی زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( بنت عبداللہ بن ابی حضرت معاویہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، اگرچہ اپنے زیورات سے ہی کیوں نہ ہو ۔ " کہا : تو میں ( اپنے خاوند ) عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس واپس آئی اور کہا : تم کم مایا آدمی ہو اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے ، لہذا تم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے پوچھ لو اگراس ( کو تمھیں دینے ) سے میری طرف سے ادا ہوجائےگا ( تو ٹھیک ) ورنہ میں اے تمھارے علاوہ دوسروں کی طرف بھیج دو گی ، کہا : تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : بلکہ تم خود ہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلی جاؤ ۔ انھوں نے کہا : میں گئی تو اس وقت ایک اور انصاری عورت بھی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر کھڑی تھی اور ( مسئلہ دریافت کرنے کے حوالے سے ) اسکی ضرورت بھی وہی تھی جو میری تھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ہیبت عطا کی گئی تھی ۔ کہا : حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نکل کر ہماری طرف آئے تو ہم نے ان سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بتاؤ کے درواز ے پر دو عور تیں ہیں آپ سے پوچھ رہی ہیں کہ ان کی طرف سے ان کے خاوندوں اور ان یتیم بچوں پر جوا ن کی کفالت میں ہیں ، صدقہ جائز ہے؟اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کویہ نہ بتاناکہ ہم کون ہیں ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : وہ دونوں کون ہیں؟ " انھوں نے کہا : ایک انصاری عورت ہے اور ایک زینب ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : " زینبوں میں سے کون سی؟ " انھوں نے کہا : عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا : " ان کے لئے دو اجر ہیں : ( ایک ) قرابت نبھانے کا اجر اور ( دوسرا ) صدقہ کرنے کا اجر ۔