العربية (الأصل)
584 صحيح حديث زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ قَالَتْ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ وَكَانَتْ زَيْنَبُ تُنْفِقُ عَلَى عَبْدِ اللهِ، وَأَيْتَامٍ فِي حَجْرِهَا، فَقَالَتْ لِعَبْدِ اللهِ، سَلْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْكَ وَعَلَى أَيْتَامِي فِي حَجْرِي مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ: سَلِي أَنْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى الْبَابِ، حَاجَتُهَا مِثْلُ حَاجَتِي؛ فَمَرَّ عَلَيْنَا بِلاَلٌ، فَقُلْنَا: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيَجْزِي عَنِّي أَنْ أُنْفِقَ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ لِي فِي حَجْرِي وَقُلْنَا: لاَ تُخْبِرْ بِنَا فَدَخَلَ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَنْ هُمَا قَالَ: زَيْنَبُ قَالَ: أَيُّ الزَّيَانِبِ قَالَ: امْرَأَة عَبْدِ اللهِ، قَالَ: نَعَمْ لَهَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ وأَجْرُ الصَّدَقَةِ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Zaynab, the wife of Abdullah: She was in the mosque and saw the Prophet (peace be upon him) say: "Give charity, even from your jewelry." Zaynab used to provide for Abdullah and the orphans in her care. She said to Abdullah: "Ask the Messenger of Allah whether it counts for me to spend on you and on the orphans in my care." He said: "You ask him." She went to the Prophet (peace be upon him) and found an Ansari woman at his door with the same question. Bilal passed by, and they said: "Ask the Prophet for us." He went in and told him. The Prophet (peace be upon him) said: "Yes, she will have two rewards: the reward of maintaining kinship and the reward of charity."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں تھی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو میں نے دیکھا، آپصلی اللہ علیہ وسلمیہ فرما رہے تھے:”صدقہ کرو خواہ اپنے زیور ہی میں سے دو۔“اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنا صدقہ اپنے شوہر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور چند یتیموں پر بھی جو ان کی پرورش میں تھے خرچ کیا کرتی تھیں، اس لیے انہوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھیے کہ کیا وہ صدقہ بھی مجھ سے کفایت کرے گا جو میں آپ پر اور ان چند یتیموں پر خرچ کروں جو میری سپردگی میں ہیں؟ لیکن سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم خود جا کر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے پوچھ لو، آخر میں خود رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے دروازے پر ایک انصاری خاتون کو پایا جو میری ہی جیسی ضرورت لے کر موجود تھیں (جو سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا تھیں)۔ پھر ہمارے سامنے سے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ گزرے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے یہ مسئلہ دریافت کیجیے کہ کیا وہ صدقہ مجھ سے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنے زیر تحویل چند یتیم بچوں پر خرچ کر دوں؟ ہم نے بلال رضی اللہ عنہ سے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا، وہ اندر گئے اور آپصلی اللہ علیہ وسلمسے عرض کیا کہ دو عورتیں مسئلہ دریافت کرتی ہیں، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ دونوں کون ہیں؟“سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہہ دیا کہ زینب نام کی ہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کون سی زینب؟“بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں! بے شک درست ہے اور انہیں دو گنا ثواب ملے گا، ایک قرابتداری کا اور دوسرا خیرات کرنے کا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 584]
