العربية (الأصل)
745 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حَاجًّا، فَخَرَجُوا مَعَهُ، فَصَرَفَ طَائِفَةً مِنْهُمْ، فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ؛ فَقَالَ: خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّى نَلْتَقِيَ فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا أَحْرَمُوا كُلُّهُمْ، إِلاَّ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ؛ فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى الْحُمُرِ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلُوا فأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهَا، وَقَالُوا: أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الأَتَانِ، فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا أَحْرَمْنَا، وَقَدْ كَانَ أبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ، فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ، فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ، فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا، فَنَزَلْنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا، ثُمَّ قُلْنَا: أَنَأْكُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقي مِنْ لَحْمِهَا، قَالَ: مِنْكُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا قَالُوا: لاَ قَالَ: فَكُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Qatadah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) set out for Hajj, and they went with him. He directed a group of them, including Abu Qatadah, saying: "Take the coastal route until we meet." So they took the coastal route, and when they turned (toward Makkah), they all assumed Ihram except Abu Qatadah, who did not assume Ihram. While they were traveling, they saw a herd of wild donkeys. Abu Qatadah charged at them and slaughtered a she-donkey. They dismounted and ate from its meat, then said: "Should we eat the meat of game while we are in Ihram?" So we carried what remained of the she-donkey's meat. When they came to the Messenger of Allah (peace be upon him), they said: "O Messenger of Allah, we had assumed Ihram, but Abu Qatadah had not. We saw wild donkeys, and Abu Qatadah charged at them and slaughtered a she-donkey. We dismounted and ate from its meat, then we wondered: 'Should we eat game meat while in Ihram?' So we carried the remaining meat." He asked: "Did any of you order him to hunt it or point it out to him?" They said: "No." He said: "Then eat what remains of its meat."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلم(حج کا) ارادہ کر کے نکلے، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ نے صحابہ کی ایک جماعت کو جس میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ ہدایت دے کر راستے سے واپس بھیجا کہ تم لوگ دریا کے کنارے کنارے ہو کر جاؤ (اور دشمن کا پتہ لگاؤ) پھر ہم سے آ ملو، چنانچہ یہ جماعت دریا کے کنارے کنارے چلی، واپسی میں سب نے احرام باندھ لیا تھا لیکن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا، یہ قافلہ چل رہا تھا کہ کئی گورخر دکھائی دیے، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کیا اور ایک مادہ کا شکار کر لیا، پھر ایک جگہ ٹھہر کر سب نے اس کا گوشت کھایا اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت کھا بھی سکتے ہیں؟ چنانچہ جو کچھ گوشت بچا وہ ہم ساتھ لائے اور جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں پہنچے تو عرض کی: یا رسول اللہ! ہم سب لوگ تو محرم تھے لیکن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے احرام نہیں باندھا تھا، پھر ہم نے گورخر دیکھے اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کر کے ایک مادہ کا شکار کر لیا، اس کے بعد ایک جگہ ہم نے قیام کیا اور اس کا گوشت کھایا، پھر خیال آیا کہ کیا ہم محرم ہونے کے باوجود شکار کا گوشت کھا بھی سکتے ہیں؟ اس لیے جو کچھ گوشت باقی بچا ہے وہ ہم ساتھ لائے ہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کیا تم میں سے کسی نے ابو قتادہ کو شکار کرنے کے لیے کہا تھا؟ یا کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا؟“سب نے کہا کہ نہیں، اس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پھر بچا ہوا گوشت بھی کھا لو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 745]
