العربية (الأصل)
744 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ أَبِي، عَامَ الحُدَيْبِيَةِ، فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ وَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَدُوًّا يَغْزُوهُ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ، تَضَحَّكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ، وَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُوني، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَطَلَبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيت رَجُلاً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ؛ قُلْتُ: أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَرَكْتُهُ بِتَعْهنَ، وَهُوَ قَايِلٌ السُّقْيَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَهْلَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللهِ، إِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Qatadah (may Allah be pleased with him): Abdullah ibn Abi Qatadah narrated: "My father set out in the year of al-Hudaybiyah, and his companions assumed Ihram but he did not. The Prophet (peace be upon him) was informed that an enemy was about to attack him, so the Prophet (peace be upon him) set out. While I was with his companions, some of them laughed among themselves. I looked and saw a wild donkey, so I charged at it, stabbed it and caught it. I sought their help, but they refused to help me. We ate from its meat, and we feared being cut off from the Prophet. I went searching for the Prophet (peace be upon him), making my horse gallop at times and walk at times. I met a man from Banu Ghifar in the middle of the night and asked: 'Where did you leave the Prophet (peace be upon him)?' He said: 'I left him at Ta'hin, and he is resting at as-Suqya.' I said to the Prophet: 'O Messenger of Allah, your people send their greetings of peace and the mercy of Allah upon you. They fear being cut off from you, so please wait for them.' I then said: 'O Messenger of Allah, I hunted a wild donkey and I have some of it remaining.' He said to the people: 'Eat it,' and they were in the state of Ihram."
الترجمة الأردية
عبداللہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میرے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) صلح حدیبیہ کے موقع پر (دشمنوں کا پتہ لگانے) نکلے، پھر ان کے ساتھیوں نے تو احرام باندھ لیا لیکن (خود انہوں نے ابھی) نہیں باندھا تھا، (اصل میں) نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکو کسی نے یہ اطلاع دی تھی کہ (مقام غیقہ میں) دشمن آپ کی تاک میں ہے، اس لیے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اور چند صحابہ کو ان کی تلاش میں) روانہ کیا، میرے والد (سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ) اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر ہنسنے لگے، (میرے والد نے بیان کیا کہ) میں نے جو نظر اٹھائی تو دیکھا کہ ایک جنگلی گدھا سامنے ہے، میں اس پر جھپٹا اور نیزے سے اسے ٹھنڈا کر دیا، میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد چاہی تھی لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا، پھر ہم نے گوشت کھایا، اب ہمیں یہ ڈر ہوا کہ کہیں (رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے) دور نہ رہ جائیں، چنانچہ میں نے آپ کو تلاش کرنا شروع کر دیا، کبھی اپنے گھوڑے تیز کر دیتا اور کبھی آہستہ، آخر رات گئے بنو غفار کے ایک شخص سے ملاقات ہو گئی، میں نے پوچھا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکہاں ہیں؟ اس نے بتایا کہ جب میں آپ سے جدا ہوا تو آپ مقام تعہن میں تھے اور آپ کا ارادہ تھا کہ مقام سقیا میں پہنچ کر دوپہر کا آرام کریں گے، (غرض میں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہو گیا) اور میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ کے اصحاب آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت بھیجتے ہیں، انہیں یہ ڈر ہے کہ کہیں وہ بہت پیچھے نہ رہ جائیں، اس لیے آپ ٹھہر کر ان کا انتظار کریں، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم! میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا تھا اور اس کا کچھ بچا ہوا گوشت اب بھی میرے پاس موجود ہے، آپ نے لوگوں سے کھانے کے لیے فرمایا حالانکہ وہ سب محرم تھے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 744]
