العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ النَّهْدِيِّ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ قَالَتْ لِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ فَقُلْتُ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُذْ كَذَا أَوْ كَذَا فَنَالَتْ مِنِّي فَقُلْتُ فَإِنِّي آتِي رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَأُصَلِّي مَعَهُ وَيَسْتَغْفِرُ لِي وَلَكَ فَأَتَيْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى ﷺ مَا بَيْنَهُمَا ثُمَّ مَضَى وَتَبِعْتُهُ فَقَالَ لِي «مَنْ هَذَا؟ » فَقُلْتُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ فَقَالَ «مَا جَاءَ بِكَ؟ » فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَتْ لِي أُمِّي فَقَالَ ﷺ «غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Hudhayfah (may Allah be well pleased with him) narrated: My mother asked me: "When did you last visit the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)?" I said: "I have not visited him since such and such time." She rebuked me, so I said: "I shall go to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), pray with him, and ask him to seek forgiveness for me and for you." I went to him and prayed the Maghrib prayer with him. He (blessings and peace of Allah be upon him) prayed between the two prayers, then walked, and I followed him. He stated: "Who is this?" I submitted: "Hudhayfah ibn al-Yaman." He stated: "What brought you?" I told him what my mother had said. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "May Allah forgive you and your mother."
الترجمة الأردية
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میری والدہ نے مجھ سے پوچھا: تم نے آخری بار رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کب ملاقات کی؟ میں نے کہا: اتنے وقت سے نہیں ملا۔ انہوں نے مجھے ڈانٹا، تو میں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤں گا، ان کے ساتھ نماز پڑھوں گا اور ان سے اپنے اور آپ کے لیے استغفار کرواؤں گا۔ میں آپ کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں نمازوں کے درمیان نماز پڑھی، پھر چلے تو میں آپ کے پیچھے چلا۔ آپ نے فرمایا: «یہ کون ہے؟» میں نے عرض کیا: حذیفہ بن یمان۔ آپ نے فرمایا: «کیا بات لے کر آئے ہو؟» میں نے اپنی والدہ کی بات بتائی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللہ تمہیں اور تمہاری والدہ کو معاف فرمائے۔»
