العربية (الأصل)
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَ مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ بِالْحِجْرِ قَالَ «لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ فَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ يَعْنِي النَّاقَةَ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ فَأَهْمَدَ اللَّهُ مَنْ تَحْتَ السَّمَاءِ مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ» قِيلَ مَنْ هُوَ؟ قَالَ «أَبُو رِغَالٍ فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ صحيح على شرط البخاري ومسلم
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Jabir ibn Abdullah (may Allah be well pleased with them both) narrated: When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) passed by al-Hijr (the area of the Thamud), he stated: Do not ask for miraculous signs, for the people of Salih asked for one. The she-camel used to come through this mountain pass and go out through this mountain pass. They transgressed the command of their Lord and hamstrung her. So the Scream seized them, and Allah destroyed everyone under the sky among them except one man who was in the Sacred Precinct of Allah. They asked: Who was he? He stated: He was Abu Righal. When he left the Sacred Precinct, what had afflicted his people afflicted him. This hadith has an authentic chain of narration, though they did not record it.
الترجمة الأردية
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حجر (قوم ثمود کے علاقے) سے گزرے تو ارشاد فرمایا: نشانیاں مت مانگو، قوم صالح نے مانگی تھی۔ اونٹنی اس گھاٹی سے آتی تھی اور اس گھاٹی سے نکلتی تھی۔ انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور اسے ذبح کر دیا۔ تو چیخ نے انہیں پکڑ لیا، اور اللہ نے آسمان تلے ان میں سے سب کو ہلاک کر دیا سوائے ایک شخص کے جو اللہ کے حرم میں تھا۔ پوچھا گیا: وہ کون تھا؟ ارشاد فرمایا: ابو رغال تھا، جب وہ حرم سے نکلا تو جو مصیبت اس کی قوم پر آئی تھی وہ اس پر بھی آئی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
