العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الأَغَرِّ، وَأَبِي، سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَتَنَزَّلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الآخِرُ يَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، وَمَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ?"
الترجمة الإنجليزية
Narrated Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him): The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Ibrahim (blessings and peace of Allah be upon him) spoke only three times (which were statements of allusion, not falsehood). Two were for the sake of Allah the Mighty and Majestic: his saying 'I am sick' (when his people were going to their festival) and 'Rather, the biggest of them did it' (referring to the idols). And one was regarding Hadrat Sarah (peace be upon her), when he entered the land of an oppressive king and said, 'She is my sister' (meaning sister in faith).
الترجمة الأردية
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہمیں معمر نے خبر دی، ان سے ہمام نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین مرتبہ بات کی (جو تعریض کے درجے میں تھیں)۔ دو مرتبہ اللہ عزوجل کے معاملے میں: ایک تو ان کا فرمانا "میں بیمار ہوں" اور دوسرا "بلکہ بت تراشی تو ان کے بڑے نے کی ہے۔" اور ایک مرتبہ حضرت سارہ علیہا السلام کے معاملے میں جب ایک ظالم بادشاہ کے علاقے میں آئے تو فرمایا یہ میری بہن ہیں (یعنی دینی بہن)۔
