It is narrated by Hadrat Ibn `Abbas that I witnessed the `Id-al-Fitr prayer with Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), Hadrat Abu Bakr, `Umar and `Hadrat Uthman; and all of them offered it before delivering the sermon... and then delivered the sermon. Once the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) (after completing the prayer and the sermon) came down, as if I am now looking at him waving at the men with his hand to sit down, and walked through them till he, along with Hadrat Bilal, reached (the rows of) the women. Then he recited: 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)! When believing women come to you to take the oath of allegiance that they will not worship anything other than Allah, will not steal, will not commit illegal sexual intercourse, will not kill their children, and will not utter slander, intentionally forging falsehood (by making illegal children belonging to their husbands)'....(60.12) Having finished, he said, 'Do you agree to that?" One lady, other than whom none replied the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Yes, O Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)!" (The, sub-narrator, Al-Hasan did not know who the lady was.) Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to them: "Will you give alms?" Thereupon Hadrat Bilal spread out his garment and the women started throwing big rings and small rings into Hadrat Bilal's garment. (See Hadith No. 95 vol)
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، انہیں حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھی ہے۔ ان تمام بزرگوں نے نماز خطبہ سے پہلے پڑھی تھی اور خطبہ بعد میں دیا تھا ( ایک مرتبہ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اترے گویا اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے پھر آپ صف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن» یعنی ”اے نبی! جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ نہ کسی کو شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان لگائیں گی جسے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیں“ آپ نے پوری آیت آخر تک پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آیت پڑھ چکے تو فرمایا تم ان شرائط پر قائم رہنے کا وعدہ کرتی ہو؟ ان میں سے ایک عورت نے جواب دیا جی ہاں یا رسول اللہ! ان کے سوا اور کسی عورت نے ( شرم کی وجہ سے ) کوئی بات نہیں کہی۔ حسن کو اس عورت کا نام معلوم نہیں تھا بیان کیا کہ پھر عورتوں نے صدقہ دینا شروع کیا اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا لیا۔ عورتیں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (7)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ شَهِدْتُ الْفِطْرَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي…
It is narrated by Hadrat Ibn `Abbas that I witnessed the `Id-al-Fitr prayer with Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), Hadrat Abu Bakr, `Umar and `Hadrat Uthman; and all of them offered it before delivering the sermon... and then delivered the sermon. Once the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) (after completing the prayer and the sermon) came down, as if I am now looking at him waving at the men with his hand to sit down, and walked through them till he, along with Hadrat Bilal, reached (the rows of) the women. Then he recited: 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)! When believing women come to you to take the oath of allegiance that they will not worship anything other than Allah, will not steal, will not commit illegal sexual intercourse, will not kill their children, and will not utter slander, intentionally forging falsehood (by making illegal children belonging to their husbands)'....(60.12) Having finished, he said, 'Do you agree to that?" One lady, other than whom none replied the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Yes, O Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)!" (The, sub-narrator, Al-Hasan did not know who the lady was.) Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to them: "Will you give alms?" Thereupon Hadrat Bilal spread out his garment and the women started throwing big rings and small rings into Hadrat Bilal's garment. (See Hadith No. 95 vol)
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، انہیں حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھی ہے۔ ان تمام بزرگوں نے نماز خطبہ سے پہلے پڑھی تھی اور خطبہ بعد میں دیا تھا ( ایک مرتبہ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اترے گویا اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے پھر آپ صف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن» یعنی ”اے نبی! جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ نہ کسی کو شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان لگائیں گی جسے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیں“ آپ نے پوری آیت آخر تک پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آیت پڑھ چکے تو فرمایا تم ان شرائط پر قائم رہنے کا وعدہ کرتی ہو؟ ان میں سے ایک عورت نے جواب دیا جی ہاں یا رسول اللہ! ان کے سوا اور کسی عورت نے ( شرم کی وجہ سے ) کوئی بات نہیں کہی۔ حسن کو اس عورت کا نام معلوم نہیں تھا بیان کیا کہ پھر عورتوں نے صدقہ دینا شروع کیا اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا لیا۔ عورتیں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔