العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلاَلٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلاَ تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي. فَقَالَ لَهُ " أَبْشِرْ ". فَقَالَ قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَىَّ مِنْ أَبْشِرْ. فَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلاَلٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ فَقَالَ " رَدَّ الْبُشْرَى فَاقْبَلاَ أَنْتُمَا ". قَالاَ قَبِلْنَا. ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ " اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا، وَأَبْشِرَا ". فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلاَ، فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ أَنْ أَفْضِلاَ لأُمِّكُمَا. فَأَفْضَلاَ لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً.
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Musa (may Allah be well pleased with him) narrates that I was with the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) when he was encamped at Ji'rana between Makkah and Madinah, and Hadrat Bilal (may Allah be well pleased with him) was with him. A bedouin came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted, 'Will you not fulfil what you promised me?' The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared, 'Rejoice!' He said, 'You have told me to rejoice too many times.' The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) turned to Hadrat Abu Musa and Hadrat Bilal (may Allah be well pleased with them both) in an appearance of displeasure and declared, 'He has rejected the glad tidings; you two accept them.' Both submitted, 'We accept.' Then the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) called for a bowl of water, washed his blessed hands and face in it, and rinsed his blessed mouth into it. Then he declared, 'Drink from it and pour it over your faces and chests, and rejoice.' Both took the bowl and did as instructed. Umm al-Mu'minin Hadrat Umm Salama (may Allah be well pleased with her) called from behind the screen, 'Leave some for your mother!' So they left some for her.
الترجمة الأردية
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان جعرانہ میں قیام فرما تھے اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: کیا آپ مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ پورا نہیں فرمائیں گے؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خوش ہو جاؤ! اس نے کہا: آپ نے مجھ سے بہت بار خوش ہونے کو کہا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ناراضگی کے انداز میں حضرت ابو موسیٰ اور حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: اس نے بشارت کو ٹھکرا دیا، تم دونوں قبول کرو۔ دونوں نے عرض کیا: ہم نے قبول کیا۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا، اس میں اپنے ہاتھ اور چہرہ مبارک دھویا اور اس میں کلی فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا: اس میں سے پیو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈالو اور خوش ہو جاؤ۔ دونوں نے پیالہ لیا اور ایسا ہی کیا۔ حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پردے کے پیچھے سے آواز دی: اپنی ماں کے لیے بھی کچھ بچاؤ! چنانچہ انہوں نے ان کے لیے بھی کچھ بچایا۔
