العربية (الأصل)
1623 صحيح حديث أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ نَازِلٌ بَالْجِعْرَانَةِ، بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: أَلاَ تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي فَقَالَ لَهُ: أَبْشِرْ فَقَالَ: قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ(أَبْشِرْ)فَأَقْبَلَ عَلَي أَبِي مُوسى وَبِلاَلٍ، كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ، فَقَالَ: رَدَّ الْبُشْرَى، فَاقْبَلاَ أَنْتُمَا قَالاَ: قَبِلْنَا ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ، فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: اشْرَبَا مِنْهُ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا، وَأَبْشِرَا فَأَخَذَا الْقَدَحَ، فَفَعَلاَ فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ: أَنْ أَفْضِلاَ لأُمِّكُمَا فَأَفْضَلاَ لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Musa (may Allah be pleased with him): I was with the Prophet (peace be upon him) while he was encamped at al-Ji'ranah, between Makkah and Madinah, and Bilal was with him. A bedouin came to the Prophet and said, "Will you not fulfill your promise to me?" He said, "Rejoice!" The bedouin said, "You have said 'Rejoice' to me too many times." The Prophet turned to Abu Musa and Bilal as if displeased, and said, "He has rejected the glad tidings. You two, accept them." They said, "We accept." He then asked for a vessel of water, washed his hands and face in it, rinsed his mouth into it, then said, "Drink from it, and pour it over your faces and chests, and rejoice." They took the vessel and did so. Umm Salamah called from behind the curtain, "Save some for your mother!" So they saved some for her.
الترجمة الأردية
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے قریب ہی تھا جب آپصلی اللہ علیہ وسلمجعرانہ سے، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ایک مقام ہے، اتر رہے تھے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے، اسی عرصہ میں آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس ایک بدوی آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے جو مجھ سے وعدہ کیا ہے، اسے پورا کیوں نہیں کرتے؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہیں بشارت ہو“، اس پر وہ بدوی بولا کہ بشارت تو آپ مجھے بہت دے چکے۔ پھر نبیصلی اللہ علیہ وسلمنے چہرہ مبارک ابو موسیٰ اور بلال رضی اللہ عنہما کی طرف پھیرا، آپصلی اللہ علیہ وسلمبہت غصے میں معلوم ہو رہے تھے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس نے بشارت واپس کر دی، اب تم دونوں اسے قبول کر لو“۔ ان دونوں حضرات نے عرض کیا کہ ہم نے قبول کیا۔ پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پانی کا ایک پیالہ طلب فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں اور چہرے کو اس میں دھویا اور اسی میں کلی کی اور (ابو موسیٰ اشعری اور بلال رضی اللہ عنہما سے) فرمایا:”اس کا پانی پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر اسے ڈال لو اور بشارت حاصل کرو“۔ ان دونوں نے پیالہ لے لیا اور ہدایت کے مطابق عمل کیا، پردہ کے پیچھے سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بھی کہا کہ اپنی ماں کے لیے بھی کچھ چھوڑ دینا، چنانچہ انہوں نے ان کے لیے ایک حصہ چھوڑ دیا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1623]
