Muhammad ibn Yusuf narrated to us, al-Awza'i narrated to us, from al-Zuhri, from Sa'id ibn al-Musayyab and 'Urwah ibn al-Zubayr, that Hadrat Hakim ibn Hizam (may Allah be well pleased with him) said: I asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and he gave me. Then I asked him again and he gave me. Then he stated to me: 'O Hakim, this wealth is green and sweet. Whoever takes it with generosity of soul will be blessed in it, and whoever takes it with greed will not be blessed in it, and he will be like one who eats but is never satisfied. The upper hand (the giving hand) is better than the lower hand (the receiving hand).' Hadrat Hakim (may Allah be well pleased with him) said: I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), by Him Who sent you with the truth, I shall not take from anyone after you until I depart this world.' Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) would invite Hadrat Hakim to give him his stipend, but he would refuse to accept anything from him. Then Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) invited him to give him his share, but he refused to accept. Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) said: 'O Muslims, I offer him his right from this fay' which Allah has allotted for him, yet he refuses to take it.' Hadrat Hakim (may Allah be well pleased with him) did not take anything from anyone after the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) until he passed away.
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، زہری سے، انہوں نے سعید بن المسیب اور عروۃ بن الزبیر سے روایت کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے عطا فرمایا، پھر مانگا تو عطا فرمایا، پھر مجھ سے ارشاد فرمایا: اے حکیم! بے شک یہ مال سبز اور شیریں ہے۔ جو شخص اسے بے لوبھی سے لے اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے، اور جو اسے لالچ کی نگاہ سے لے اس کے لیے اس میں برکت نہیں ہوتی، اور وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر پیٹ نہیں بھرتا۔ اور اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔ حضرت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! آپ کے بعد میں کسی سے کچھ نہیں لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر عطیہ دینا چاہتے لیکن وہ لینے سے انکار فرماتے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی انہیں بلایا تاکہ عطیہ دیں مگر انہوں نے لینے سے انکار فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے مسلمانو! میں اس فے میں سے جو اللہ نے ان کے لیے مقرر فرمایا ہے ان کا حق پیش کرتا ہوں مگر یہ لینے سے انکار کرتے ہیں۔ حضرت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی سے بھی کچھ نہیں لیا یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (21)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ لِي " يَا حَكِيمُ، إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ …
صحيح البخاري
سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ " يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْ…
صحيح البخاري
سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَ…
صحيح مسلم
سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ " إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَ…
جامع الترمذي
سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ " يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ …
سنن النسائي
سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُور…
Muhammad ibn Yusuf narrated to us, al-Awza'i narrated to us, from al-Zuhri, from Sa'id ibn al-Musayyab and 'Urwah ibn al-Zubayr, that Hadrat Hakim ibn Hizam (may Allah be well pleased with him) said: I asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and he gave me. Then I asked him again and he gave me. Then he stated to me: 'O Hakim, this wealth is green and sweet. Whoever takes it with generosity of soul will be blessed in it, and whoever takes it with greed will not be blessed in it, and he will be like one who eats but is never satisfied. The upper hand (the giving hand) is better than the lower hand (the receiving hand).' Hadrat Hakim (may Allah be well pleased with him) said: I submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), by Him Who sent you with the truth, I shall not take from anyone after you until I depart this world.' Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) would invite Hadrat Hakim to give him his stipend, but he would refuse to accept anything from him. Then Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) invited him to give him his share, but he refused to accept. Hadrat 'Umar (may Allah be well pleased with him) said: 'O Muslims, I offer him his right from this fay' which Allah has allotted for him, yet he refuses to take it.' Hadrat Hakim (may Allah be well pleased with him) did not take anything from anyone after the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) until he passed away.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، زہری سے، انہوں نے سعید بن المسیب اور عروۃ بن الزبیر سے روایت کیا کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مانگا تو آپ نے مجھے عطا فرمایا، پھر مانگا تو عطا فرمایا، پھر مجھ سے ارشاد فرمایا: اے حکیم! بے شک یہ مال سبز اور شیریں ہے۔ جو شخص اسے بے لوبھی سے لے اس کے لیے اس میں برکت دی جاتی ہے، اور جو اسے لالچ کی نگاہ سے لے اس کے لیے اس میں برکت نہیں ہوتی، اور وہ اس شخص کی طرح ہے جو کھاتا ہے مگر پیٹ نہیں بھرتا۔ اور اوپر والا ہاتھ (دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہے۔ حضرت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! آپ کے بعد میں کسی سے کچھ نہیں لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر عطیہ دینا چاہتے لیکن وہ لینے سے انکار فرماتے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی انہیں بلایا تاکہ عطیہ دیں مگر انہوں نے لینے سے انکار فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے مسلمانو! میں اس فے میں سے جو اللہ نے ان کے لیے مقرر فرمایا ہے ان کا حق پیش کرتا ہوں مگر یہ لینے سے انکار کرتے ہیں۔ حضرت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی سے بھی کچھ نہیں لیا یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا۔
سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ …
سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَ…
سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعطاني، ثم سألته فأعطاني، ثم سألته فأعطاني ثم قال: "يا حكيم، إن هذا المال خضر حلو، فمن أخذه بسخاوة نفس بورك له فيه، ومن أخذه بإشراف نفس لم يبارك له فيه، وكان كالذي يأكل ولا يشبع، وا…