حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لِشَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ، وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ". فَطَافَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَى أَرْبَعًا، فَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn 'Umar (may Allah be well pleased with them both) that during the last Hajj (Hajjat al-Wada') of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) he performed 'Umra and Hajj. He drove a Hadi along with him from Dhul-Hulaifa. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) started by assuming Ihram for 'Umra and Hajj. And the people, too, performed the 'Umra and Hajj along with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Some of them brought the Hadi and drove it along with them, while the others did not. So, when the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) arrived at Makkah, he stated to the people, 'Whoever among you has driven the Hadi should not finish his Ihram till he completes his Hajj. And whoever among you has not (driven) the Hadi with him should perform Tawaf of the Ka'ba and the Tawaf between Safa and Marwa, then cut short his hair and finish his Ihram, and should later assume Ihram for Hajj; but he must offer a Hadi (sacrifice); and if anyone cannot afford a Hadi, he should fast for three days during the Hajj and seven days when he returns home.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) performed Tawaf of the Ka'ba on his arrival (at Makkah); he touched the (Black Stone) corner first of all and then did Ramal (fast walking with moving of the shoulders) during the first three rounds of the Ka'ba, and during the last four rounds he walked. After finishing Tawaf of the Ka'ba, he offered a two-rak'at prayer at Maqam Ibrahim (upon him be peace), and after finishing the prayer he went to Safa and Marwa and performed seven rounds of Tawaf between them and did not do any deed forbidden because of Ihram, till he finished all the ceremonies of his Hajj and sacrificed his Hadi on the Day of Nahr (10th day of Dhul-Hijjah). He then hastened onwards (to Makkah) and performed Tawaf of the Ka'ba and then everything that was forbidden because of Ihram became permissible. Those who took and drove the Hadi with them did the same as the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did.
الترجمة الأردية
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں تمتع فرمایا یعنی عمرہ فرما کر پھر حج فرمایا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ قربانی لے تشریف لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے عمرہ کے لیے احرام باندھا، پھر حج کے لیے لبیک پکارا۔ لوگوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا یعنی عمرہ فرما کر حج فرمایا، لیکن بہت سے لوگ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے تشریف لے گئے تھے اور بہت سے نہیں لے گئے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو لوگوں سے ارشاد فرمایا کہ جو شخص قربانی ساتھ لایا ہو اس کے لیے حج پورا ہونے تک کوئی بھی ایسی چیز حلال نہیں ہو سکتی جسے اس نے اپنے اوپر (احرام کی وجہ سے) حرام کر لیا ہے لیکن جن کے ساتھ قربانی نہیں ہے تو وہ بیت اللہ کا طواف فرما لیں اور صفا اور مروہ کی سعی فرما کر بال ترشوا لیں اور حلال ہو جائیں، پھر حج کے لیے (از سر نو آٹھویں ذی الحجہ کو احرام باندھیں) ایسا شخص اگر قربانی نہ پائے تو تین دن کے روزے حج ہی کے دنوں میں اور سات دن کے روزے گھر واپس آ کر رکھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے طواف فرمایا پھر حجر اسود کو بوسہ دیا، تین چکروں میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رمل فرمایا اور باقی چار میں معمولی رفتار سے تشریف لے گئے، پھر بیت اللہ کا طواف پورا فرما کر مقام ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو رکعت نماز ادا فرمائی، سلام پھیر کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف تشریف لے گئے اور صفا اور مروہ کی سعی بھی سات چکروں میں پوری فرمائی۔ جن چیزوں کو (احرام کی وجہ سے اپنے پر) حرام فرما لیا تھا ان سے اس وقت تک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حلال نہیں ہوئے جب تک حج بھی پورا نہ فرما لیا اور یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) میں قربانی کا جانور بھی ذبح نہ فرما لیا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (مکہ واپس) تشریف لائے اور بیت اللہ کا جب طواف افاضہ فرما لیا تو ہر وہ چیز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حلال ہو گئی جو احرام کی وجہ سے حرام تھی۔ جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر تشریف لے گئے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْىَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، فَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْىَ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ، قَالَ لِلنَّاسِ " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لِشَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ، وَلْيَحْلِلْ، ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ". فَطَافَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَىْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَةَ أَطْوَافٍ، وَمَشَى أَرْبَعًا، فَرَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَىْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْىَ مِنَ النَّاسِ.
It is narrated by Hadrat Ibn 'Umar (may Allah be well pleased with them both) that during the last Hajj (Hajjat al-Wada') of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) he performed 'Umra and Hajj. He drove a Hadi along with him from Dhul-Hulaifa. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) started by assuming Ihram for 'Umra and Hajj. And the people, too, performed the 'Umra and Hajj along with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). Some of them brought the Hadi and drove it along with them, while the others did not. So, when the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) arrived at Makkah, he stated to the people, 'Whoever among you has driven the Hadi should not finish his Ihram till he completes his Hajj. And whoever among you has not (driven) the Hadi with him should perform Tawaf of the Ka'ba and the Tawaf between Safa and Marwa, then cut short his hair and finish his Ihram, and should later assume Ihram for Hajj; but he must offer a Hadi (sacrifice); and if anyone cannot afford a Hadi, he should fast for three days during the Hajj and seven days when he returns home.' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) performed Tawaf of the Ka'ba on his arrival (at Makkah); he touched the (Black Stone) corner first of all and then did Ramal (fast walking with moving of the shoulders) during the first three rounds of the Ka'ba, and during the last four rounds he walked. After finishing Tawaf of the Ka'ba, he offered a two-rak'at prayer at Maqam Ibrahim (upon him be peace), and after finishing the prayer he went to Safa and Marwa and performed seven rounds of Tawaf between them and did not do any deed forbidden because of Ihram, till he finished all the ceremonies of his Hajj and sacrificed his Hadi on the Day of Nahr (10th day of Dhul-Hijjah). He then hastened onwards (to Makkah) and performed Tawaf of the Ka'ba and then everything that was forbidden because of Ihram became permissible. Those who took and drove the Hadi with them did the same as the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع میں تمتع فرمایا یعنی عمرہ فرما کر پھر حج فرمایا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ قربانی لے تشریف لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے عمرہ کے لیے احرام باندھا، پھر حج کے لیے لبیک پکارا۔ لوگوں نے بھی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا یعنی عمرہ فرما کر حج فرمایا، لیکن بہت سے لوگ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے تشریف لے گئے تھے اور بہت سے نہیں لے گئے تھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو لوگوں سے ارشاد فرمایا کہ جو شخص قربانی ساتھ لایا ہو اس کے لیے حج پورا ہونے تک کوئی بھی ایسی چیز حلال نہیں ہو سکتی جسے اس نے اپنے اوپر (احرام کی وجہ سے) حرام کر لیا ہے لیکن جن کے ساتھ قربانی نہیں ہے تو وہ بیت اللہ کا طواف فرما لیں اور صفا اور مروہ کی سعی فرما کر بال ترشوا لیں اور حلال ہو جائیں، پھر حج کے لیے (از سر نو آٹھویں ذی الحجہ کو احرام باندھیں) ایسا شخص اگر قربانی نہ پائے تو تین دن کے روزے حج ہی کے دنوں میں اور سات دن کے روزے گھر واپس آ کر رکھے۔ جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لائے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے طواف فرمایا پھر حجر اسود کو بوسہ دیا، تین چکروں میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رمل فرمایا اور باقی چار میں معمولی رفتار سے تشریف لے گئے، پھر بیت اللہ کا طواف پورا فرما کر مقام ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو رکعت نماز ادا فرمائی، سلام پھیر کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صفا پہاڑی کی طرف تشریف لے گئے اور صفا اور مروہ کی سعی بھی سات چکروں میں پوری فرمائی۔ جن چیزوں کو (احرام کی وجہ سے اپنے پر) حرام فرما لیا تھا ان سے اس وقت تک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حلال نہیں ہوئے جب تک حج بھی پورا نہ فرما لیا اور یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) میں قربانی کا جانور بھی ذبح نہ فرما لیا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (مکہ واپس) تشریف لائے اور بیت اللہ کا جب طواف افاضہ فرما لیا تو ہر وہ چیز آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حلال ہو گئی جو احرام کی وجہ سے حرام تھی۔ جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر تشریف لے گئے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔