حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ". ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ ثُمَّ قَالَتْ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
الترجمة الإنجليزية
Narrated by Hadrat Zainab bint Abi Salama: I went to Umm al-Mu'minin Hadrat Umm Habiba (may Allah be well pleased with her), the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), who said, 'I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: "It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for any dead person for more than three days, except for her husband, for whom she should mourn for four months and ten days."' Then I went to Umm al-Mu'minin Hadrat Zainab bint Jahsh (may Allah be well pleased with her) when her brother had passed away. She asked for perfume and applied it, then said, 'I have no need of perfume, but I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying on the pulpit: "It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for any dead person for more than three days, except for her husband, for whom she should mourn for four months and ten days."'
الترجمة الأردية
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، فرمایا مجھ سے امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے، ان سے حمید بن نافع نے اور ان سے حضرت زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی، فرمایا: میں اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ) کے پاس حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ کسی میت کا سوگ تین دن سے زیادہ کرے، سوائے شوہر کے جس کا سوگ چار مہینے دس دن ہے۔ پھر میں حضرت اُمّ المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئی جب ان کے بھائی کا انتقال ہوا تھا۔ انہوں نے خوشبو منگوائی اور لگائی، پھر فرمایا: مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے منبر پر سنا ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ کسی میت کا سوگ تین دن سے زیادہ کرے، سوائے شوہر کے جس کا سوگ چار مہینے دس دن ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ، دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ". ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ ثُمَّ قَالَتْ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ " لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ، إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
Narrated by Hadrat Zainab bint Abi Salama: I went to Umm al-Mu'minin Hadrat Umm Habiba (may Allah be well pleased with her), the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), who said, 'I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying: "It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for any dead person for more than three days, except for her husband, for whom she should mourn for four months and ten days."' Then I went to Umm al-Mu'minin Hadrat Zainab bint Jahsh (may Allah be well pleased with her) when her brother had passed away. She asked for perfume and applied it, then said, 'I have no need of perfume, but I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saying on the pulpit: "It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for any dead person for more than three days, except for her husband, for whom she should mourn for four months and ten days."'
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، فرمایا مجھ سے امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے، ان سے حمید بن نافع نے اور ان سے حضرت زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی، فرمایا: میں اُمّ المؤمنین حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ) کے پاس حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ کسی میت کا سوگ تین دن سے زیادہ کرے، سوائے شوہر کے جس کا سوگ چار مہینے دس دن ہے۔ پھر میں حضرت اُمّ المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئی جب ان کے بھائی کا انتقال ہوا تھا۔ انہوں نے خوشبو منگوائی اور لگائی، پھر فرمایا: مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہیں تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے منبر پر سنا ہے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ کسی میت کا سوگ تین دن سے زیادہ کرے، سوائے شوہر کے جس کا سوگ چار مہینے دس دن ہے۔
عن زينب بنت أبي سلمة رضي الله عنهما قالت: دخلت على أم حبيبة رضي الله عنه زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين توفي أبوها أبو سفيان بن حرب رضي الله عنه، فدعت بطيب فيه صفرة خلوق أو غي…