العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تَنَاتَجُ الإِبِلُ مِنْ بَهِيمَةٍ جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّ مِنْ جَدْعَاءَ " . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهُوَ صَغِيرٌ قَالَ " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him) narrates that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Every child is born upon the natural disposition (fitrah), then his parents make him a Jew or a Christian — just as a she-camel gives birth to a whole and perfect calf; do you perceive any defect in it? They submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! What do you say about those who die young? He stated: Allah knows best what deeds they would have performed.
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے ہیں — جیسے اونٹنی صحیح سالم بچہ جنتی ہے، کیا تم اس میں کوئی کان کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو بچے بچپن میں مر جائیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔
