عربی (اصل)
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، أَنَّ مَسْرُوقًا، أَتَى صِفِّينَ، فَقَامَ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ , فَقَالَ:" يَا أَيَُّهَا النَّاسُ أَنْصِتُوا، أَرَأَيْتُمْلَوْ أَنَّ مُنَادِيًا نَادَاكُمْ مِنَ السَّمَاءِ فَرَأيْتُمُوهُ وَسَمِعْتُمْ كَلامَهُ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ عَمَّا أَنْتُمْ فِيهِ، أَكُنْتُمْ مُنْتَهُونَ"؟ قَالَ: فَسَبُّوهُ قَالَ:" فَوَاللَّهِ , لَقَدْ نَزَلَ بِذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ، وَمَا ذَلِكَ عِنْدَنَا بِأَبْيَنَ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا {29} وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا سورة النساء آية 29-30", قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ إِلَى النَّاسِ وَرَجَعَ إِلَى الْكُوفَةِ.
انگریزی ترجمہ
Masruq (may Allah have mercy on him) went to Siffin and stood between the two rows and said: 'O people! Listen! If a caller were to call you from the sky and you could see him and hear his speech, saying that Allah forbids you from what you are doing, would you desist?' They cursed him. He said: 'By Allah, Jibril (peace be upon him) came down with this very message, and it is no clearer to us than what Muhammad (peace be upon him) brought. Indeed, Allah says: "O you who believe! Do not consume your wealth amongst yourselves unjustly, except through trade by mutual consent. And do not kill yourselves. Indeed, Allah is Merciful to you. And whoever does that in aggression and injustice—We will drive him into a Fire, and that is easy for Allah" (al-Nisa: 29-30).' Then he went back among the people and returned to Kufa.
اردو ترجمہ
مسروق رحمہ اللہ صفین گئے اور صفوں کے درمیان کھڑے ہو کر فرمایا:”اے لوگو! خاموش ہو جاؤ۔ اگر آسمان سے ایک منادی تمہیں پکارے، تم اسے دیکھو اور اس کی آواز سنو، اور وہ کہے کہ اللہ تمہیں اس چیز سے روکتا ہے جس میں تم پڑے ہوئے ہو، تو کیا تم باز آ جاؤ گے؟“لوگوں نے انہیں برا بھلا کہا، تو انہوں نے فرمایا:”اللہ کی قسم! جبریل علیہ السلام یہی پیغام لے کر نازل ہوئے، اور یہ بات ہمارے نزدیک رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے فرمان سے زیادہ واضح نہیں ہے۔ بےشک، اللہ عزوجل فرماتا ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا﴾(اے ایمان والو! تم ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ، مگر یہ کہ وہ باہمی رضا مندی سے تجارت کے طور پر ہو۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بےشک اللہ تم پر مہربان ہے۔ اور جو یہ سب زیادتی اور ظلم کے طور پر کرے گا، تو ہم اسے آگ میں داخل کریں گے، اور یہ اللہ کے لیے آسان ہے)۔“پھر وہ لوگوں میں داخل ہوئے اور کوفہ لوٹ آئے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 622]
