عربی (اصل)
ناأَبُو الأَحْوَصِ، عَنِالْعَلاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَخْبَرَنِيرَجُلٌ، أَنَّهُ سَأَلَابْنَ عُمَرَ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ،إِنَّا قَوْمٌ نُكْرَى فِي هَذَا الْوَجْهِ، وَإِنَّ قَوْمًا يَزْعُمُونَ أَنْ لا حَجَّ لَنَا؟ , فَقَالَ لَهُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا سَأَلْتَ عَنْهُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198 فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ، فَقَالَ:" أَنْتُمْ حُجَّاجٌ".
انگریزی ترجمہ
A man asked Ibn Umar (may Allah be pleased with them both): O Abdullah, we are people who hire out for transport on this route, and some people claim that our Hajj does not count. Ibn Umar replied: A man asked the Messenger of Allah (peace be upon him) the same question you asked, but he did not respond until this verse was revealed: 'There is no blame upon you for seeking bounty from your Lord' (al-Baqarah: 198). Then the Prophet (peace be upon him) called the man and said: 'You are pilgrims.'
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: اے عبداللہ! ہم لوگ تجارت کے لیے کرایہ پر جاتے ہیں، اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا حج نہیں ہوتا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک شخص نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے وہی سوال کیا جو تم نے پوچھا، مگر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی:﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾(تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو)۔ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس شخص کو بلایا اور فرمایا:”تم لوگ حاجی ہو۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 352]
