عربی (اصل)
ناسُفْيَانُ، عَنْأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ بِالْجِعْرَانَةِ قَسْمًا، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ:اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، فَقَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَنْ يَعْدِلُ إِنْ لَمْ أَعْدِلْ؟" فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ:" لا، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابًا لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ مَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
انگریزی ترجمہ
Al-Sha'bi (may Allah have mercy on him) narrated details about 'Umar's establishment of the diwan.
اردو ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے جعرانہ میں مال تقسیم کیا۔ ایک آدمی آیا اور کہا:”اے محمد انصاف کرو۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”افسوس تجھ پر! اگر میں انصاف نہ کروں تو کون کرے گا؟“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:”مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نہیں، اس جیسے لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4078]
