عربی (اصل)
ناعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّبُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَمَّرَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ تَقُولُونَ فِي أُسَامَةَ أَنَّ أُسَامَةَ حَدَثُ السِّنِّ، وَإِنْ تَقُولُوا فَقَدْ قُلْتُمْ لأَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُ لَخَلِيقٌ لِلإِمْرَةِ". قَالَ بُكَيْرٌ: فَبَلَغَنِي أَنَّ عَبِيدَةَ بْنَ سُفْيَانَ، قَالَ: فَإِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونَ هَذِهِ إِلَى الْيَوْمِ. قَالَ قَالَبُكَيْرٌ: وَسَمِعْتُسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، قَالَ:"أَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةَ عَلَى جَيْشٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَحْرِقَ قَرْيَةَ يُبْنَا"، فَمَضَى أَوَّلُ الْجَيْشِ وَجَعَلَ أُسَامَةُ يَتَرَدَّدُ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ أُسَامَةُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: مَا تَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ: تَمْضِي عَلَى أَمْرِكَ الَّذِي أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا أَزِيدُ فِيهِ وَلا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّكَ إِنْ تَبْعَثْ أُسَامَةَ وَمَعَهُ حَدُّ النَّاسِ، فَتَرْتَدُّ هَذِهِ الأَعْرَابُ، فَتَمِيلُ عَلَى ثَقَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ الذِّئَابَ وَالْكِلابَ تَنْهَشُنِي بِهَا مَا رَدَدْتُ أَمْرًا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، امْضِ، فَإِنَّ اللَّهَ سِيُعِينُنَا، وَلَكِنْ إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَأْذَنَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ أُسَامَةُ: فَخَرَجْتُ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ: مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَأَلَنِي أَنْ آذَنَ لَكَ فَفَعَلْتُ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَمْضِيَ، فَقَالَ عُمَرُ: رَحِمَكَ اللَّهُ.
انگریزی ترجمہ
'Umar (may Allah be pleased with him) said: "If a dhimmi breaks his covenant, his protection is void."
اردو ترجمہ
حضرت بکیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو سپہ سالار بنایا تو لوگوں نے اعتراض کیا، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم اسامہ کے کم عمر ہونے پر بات کرتے ہو، تم نے اس کے والد پر بھی اسی طرح بات کی تھی، اللہ کی قسم! وہ امارت کے لائق ہے۔“حضرت بکیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے خبر ملی کہ حضرت عبیدہ بن سفیان رحمہ اللہ نے کہا:”مجھے امید ہے یہ فیصلہ آج تک قائم ہے۔“حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اسامہ رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر پر امیر بنایا اور حکم دیا کہ یبنا گاؤں کو جلا دیں۔ جب لشکر روانہ ہوا تو اسامہ کچھ ٹھہرے یہاں تک کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا وصال ہو گیا۔ پھر اسامہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا:”آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟“انہوں نے فرمایا:”جس چیز کا تمہیں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے حکم دیا ہے اس پر عمل کرو، نہ میں اس میں کوئی اضافہ کروں گا نہ کمی۔“لوگوں نے کہا:”اگر آپ اسامہ کو بھیج دیں گے اور قریبی لوگوں کو ساتھ لے جائیں گے تو بدوی عرب مرتد ہو جائیں گے اور مدینہ پر حملہ کر دیں گے۔“سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”اللہ کی قسم! اگر درندے مجھے کھا جائیں تب بھی میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے حکم کو واپس نہ کروں گا۔“جاؤ، اللہ ہماری مدد فرمائے گا۔ لیکن اگر تم چاہو تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ساتھ رکھ لو۔ اسامہ نے کہا:”میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں اجازت دی۔“تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:”اللہ تم پر رحم کرے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4066]
