عربی (اصل)
نا نا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: نا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَدِمَ قَيْسُ بْنُ مَكْشُوحٍ الْمُرَادِيُّ عَلَى سَعْدٍ فِي ثَمَانِينَ، وَكَانَ مَعَهُ ثَلاثُ مِائَةٍ، فَتَعَجَّلَ إِلَى سَعْدٍ فِي ثَمَانِينَ، فَشَهِدَ الْوَقْعَةَ، ثُمَّ جَاءَ بَقِيَّةُ أَصْحَابِهِ بَعْدَ الْوَقْعَةِ، فَسَأَلُوا سَعْدًا أَنْ يُسْهِمَ لَهُمْ، فَأَبَى حَتَّى كَتَبَ إِلَىعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ" أَنْأَسْهِمْ لِمَنْ أَتَاكَ قَبْلَ أَنْ يَتَفَقَّأَ قَتْلَى فَارِسَ، وَمَنْ جَاءَ بَعْدَ تَفَقِّي الْقَتْلَى فَلا شَيْءَ لَهُ".
انگریزی ترجمہ
'Umar (may Allah be pleased with him) imposed the jizya on the people of the Sawad (Iraq) — forty-eight dirhams on the wealthy, twenty-four on the middle class, and twelve on the poor.
اردو ترجمہ
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: قیس بن مکشوح اسی آدمیوں کے ساتھ سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور واقعہ سے پہلے لڑائی میں شریک ہو گئے، باقی لوگ بعد میں آئے، جب انہوں نے حصہ مانگا، تو سعد نے انکار کیا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا:”جو قتال سے پہلے آیا، اس کے لیے حصہ ہے، جو بعد میں آیا، اس کے لیے کچھ نہیں۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3970]
