عربی (اصل)
نا نا هُشَيْمٌ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْعَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيأَخَوَيْنِ تَزَوَّجَا أُخْتَيْنِ، فَأُدْخِلَ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا امْرَأَةُ أَخِيهِ، قَالَ:" يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا الصَّدَاقُ، وَلا يَقْرَبُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا امْرَأَتَهُ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ أُخْتِهَا، وَيَرْجِعُ الزَّوْجَانِ عَلَى مَنْ غَرَّهُمَا بِالصَّدَاقِ".
انگریزی ترجمہ
Ibrahim al-Nakha'i said: "She may go out during the day for her needs but must return home before nightfall."
اردو ترجمہ
حضرت شعبی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ دو بھائیوں نے دو بہنوں سے نکاح کیا، اور (غلطی سے) ہر ایک کے پاس دوسرے کی بیوی داخل کر دی گئی۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی، اور ہر عورت کو اس کا مہر دیا جائے گا، اور ان میں سے ہر مرد اپنی بیوی کے قریب نہ آئے جب تک کہ اس کی بہن کی عدت پوری نہ ہو جائے، اور دونوں شوہر اس شخص سے مہر واپس لیں گے جس نے انہیں دھوکہ دیا تھا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3296]
