عربی (اصل)
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّامْرَأَةً، قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ الَّذِيَ بِيَدِكَ مِنْ أَمْرِي بِيَدِي لَفَارَقْتُكَ , قَالَ لَهَا: فَأَمْرُكِ بِيَدِكِ , قَالَتْ: أَنْتَ طَالِقٌ ثَلاثًا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ:" تَعْمِدُونَ إِلَى أَمْرٍ جَعَلَهُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ فُتَجْعَلُونَهُ بِأَيْدِيهِنَّ"، ثُمَّ قَالَ:" وَاحِدَةٌ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا".
انگریزی ترجمہ
Ibrahim narrated: A woman said to her husband: "If the authority you have over me were in my hands, I would leave you." He said: "Then your matter is in your hands." She said: "You are divorced three times." This was brought to 'Umar ibn al-Khattab who became angry and said: "You take something Allah placed in your hands and put it in theirs?" Then he said: "One divorce, and you have the right to take her back."
اردو ترجمہ
روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا: اگر تیرا معاملہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں تجھ سے جدا ہو جاتی۔ شوہر نے کہا: تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ عورت نے کہا: توں تین طلاق۔ یہ معاملہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، آپ نے غصہ فرمایا اور کہا:”تم لوگ اللہ کے دیے ہوئے اختیار کو عورتوں کے ہاتھوں میں دے دیتے ہو۔“پھر فرمایا:”ایک طلاق اور شوہر کو رجوع کا حق ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2817]
