عربی (اصل)
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا أَبُو حُرَّةَ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ:" إِذَا وَهَبْتَهَا لأَهْلِهَا، فَقَبِلُوهَا فَهِيَ ثَلاثٌ، وَإِنْ رَدُّوهَا فَوَاحِدَةٌ، وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا".
انگریزی ترجمہ
Al-Hasan said: "If you hand her over to her family and they accept her, it counts as three divorces. But if they return her, it is one divorce and he has more right to her."
اردو ترجمہ
حضرت حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مرد نے بیوی کو اس کے گھر والوں کو دے دیا اور انہوں نے قبول کر لیا تو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور اگر انہوں نے واپس کر دیا تو ایک طلاق ہو گی اور وہ مرد اس کا زیادہ حق دار ہو گا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2774]
