عربی (اصل)
وعن أم المؤمنين صفية بن حيي رضي الله عنها قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم معتكفاً، فأتيته أزوره ليلاً، فحدثته ثم قمت لأنقلب، فقام معي ليقلبني، فمر رجلان من الأنصار رضي الله عنهما ، فلما رأيا النبي صلى الله عليه وسلم أسرعا، فقال صلى الله عليه وسلم : على رسلكما إنها صفية بنت حيي فقالا: سبحان الله يا رسول الله! :"إن الشيطان يجري من ابن آدم مجرى الدم، وإني خشيت أن يقذف في قلوبكما شراً أو قال: شيئاً” ((متفق عليه)).
انگریزی ترجمہ
Hadrat Safiyyah bint Huyai (may Allah be well pleased with her), the Mother of the Believers, said:I came to visit the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while he was in the state of I'tikaf .
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں تھے۔ میں رات کو آپ سے ملنے آئی، آپ سے باتیں کیں پھر واپسی کے لیے کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مجھے چھوڑنے کھڑے ہوئے۔ اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے۔ جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو تیز چلنے لگے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو! یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: سبحان اللہ! یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شیطان انسان میں خون کی طرح دوڑتا ہے اور مجھے ڈر ہوا کہ تمہارے دلوں میں کوئی بری بات نہ ڈال دے۔ (متفق علیہ)
