عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ سَمْعَانَ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي جَنَازَةٍ فَقَالَ " أَهَا هُنَا مِنْ بَنِي فُلاَنٍ أَحَدٌ " . ثَلاَثًا فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الأُولَيَيْنِ أَنْ لاَ تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّهْ بِكَ إِلاَّ بِخَيْرٍ إِنَّ فُلاَنًا - لِرَجُلٍ مِنْهُمْ - مَاتَ مَأْسُورًا بِدَيْنِهِ " .
انگریزی ترجمہ
It was narrated that samurah said: "We were with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at a funeral, and he said: 'I there anyone from banu so and so here? He said this three times. Then a man stood up, and he said to him: 'What kept you form answering the first two times? I am not going to say anything but good to you, so and so (mentioning the name of a man from among them) has died and he is being detained (from entering Paradise) because of his debt
اردو ترجمہ
حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے۔ آپ نے تین بار پوچھا: کیا یہاں فلاں قبیلے کا کوئی شخص ہے؟ پھر ایک شخص کھڑا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلی دو بار تمہیں جواب دینے سے کس چیز نے روکا؟ میں تمہیں صرف بھلائی بتانا چاہتا ہوں۔ فلاں شخص (ان میں سے ایک آدمی کا نام لے کر) دو دینار کے قرض میں پھنسا ہوا مرا ہے۔
