عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ مَا لِي لاَ أَسْمَعُ النَّاسَ يُلَبُّونَ قُلْتُ يَخَافُونَ مِنْ مُعَاوِيَةَ . فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ فُسْطَاطِهِ فَقَالَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ فَإِنَّهُمْ قَدْ تَرَكُوا السُّنَّةَ مِنْ بُغْضِ عَلِيٍّ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Saeed bin Jubair (may Allah be well pleased with him) said: "I was with Hadrat Ibn Abbas in Arafat and he said: 'Why do I not hear the people reciting Talbiyah?' I said: They are afraid of Hadrat Muawiyah.' So Hadrat Ibn Abbas went out of his tent and said: "Labbaik Allahumma Labbaik, Labbaik! They are only forsaking the Sunnah out of hatred for Ali
اردو ترجمہ
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ عرفات میں تھا تو وہ کہنے لگے: کیا بات ہے، میں لوگوں کو تلبیہ پکارتے ہوئے نہیں سنتا۔ میں نے کہا: لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ڈر رہے ہیں، ( انہوں نے لبیک کہنے سے منع کر رکھا ہے ) تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ( یہ سن کر ) اپنے خیمے سے باہر نکلے، اور کہا: «لبيك اللہم لبيك لبيك» ( افسوس کی بات ہے ) علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی عداوت میں لوگوں نے سنت چھوڑ دی ہے۔
