عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ وَلَقَوْا مِنْهَا شَرًّا فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلَى ذَلِكَ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ مِنَ نَاحِيَةِ الْحِجْرِ فَقَالُوا لَهَؤُلاَءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with him) said: "When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and his Companions came to Makkah, the idolaters said: 'The fever of Yathrib has weakened them, and they have suffered a great deal because of it.' Allah informed His the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) about that, so he told his Companions to walk rapidly, and to walk (at a normal pace) between the two corners, and the idolaters were on the side of the Stone. They said: 'They are stronger than such and such
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب ( فتح کے موقع پر ) مکہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے: انہیں یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے لاغر و کمزور کر دیا ہے، اور انہیں وہاں شر پہنچا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دی تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے تیز چلیں، اور دونوں رکنوں ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود ) کے درمیان عام چال چلیں، اور مشرکین اس وقت حطیم کی جانب ہوتے تو انہوں نے ( ان کو اکڑ کر کندھے اچکاتے ہوئے تیز چلتے ہوئے دیکھ کر ) کہا: یہ تو یہاں سے بھی زیادہ مضبوط اور قوی ہیں۔
