عربی (اصل)
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تميم القَنطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، عن ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن أبي أُمامة قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن غَدَا إلى المسجد لا يريدُ إلّا ليتعلَّمَ خيرًا أو يُعلِّمَه، كان له أجرُ معتمرٍ تامِّ العُمْرة، ومَن راحَ إلى المسجد لا يريدُ إلَّا ليتعلَّمَ خيرًا أو يُعلِّمَه، فله أجرُ حاجٍّ تامِّ الحَجَّة"(3). قد احتَجَّ البخاريُّ بثَوْر بن يزيد في الأصول، وخرَّجه مسلم في الشواهد(4)، فأما ثور بن زَيْد الدِّيلي فإنه متَّفَق عليه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 311 - على شرط البخاري
انگریزی ترجمہ
Abu Umamah narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever goes to the mosque in the morning with no intention other than to learn something good or to teach it, he will have the reward of a complete Umrah. And whoever goes to the mosque in the evening with no intention other than to learn something good or to teach it, he will have the reward of a complete Hajj."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جو شخص صبح کے وقت مسجد کی طرف صرف اس ارادے سے گیا کہ کوئی بھلائی سیکھے یا سکھائے، تو اسے ایک مکمل عمرہ کرنے والے کا اجر ملے گا، اور جو شام کے وقت مسجد کی طرف صرف اس ارادے سے گیا کہ کوئی بھلائی سیکھے یا سکھائے، تو اسے ایک مکمل حج کرنے والے کا اجر ملے گا۔“امام بخاری نے ثور بن یزید سے اصول (بنیادی روایات) میں احتجاج کیا ہے اور امام مسلم نے انہیں شواہد میں ذکر کیا ہے، جہاں تک ثور بن زید دیلی کا تعلق ہے تو وہ (ثقہ ہونے پر) متفق علیہ ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 315]
