عربی (اصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو بَكْرة بكَّار بن قُتيبة بن بكَّار القاضي بمصر، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا إسحاق بن سعيد، عن أبيه قال: كنتُ عند ابن عباس فأتاه رجل فمَتَّ إليه برَحِمٍ بعيدة، فقال ابن عباس: قال رسول الله ﷺ:"اعرِفوا أنسابَكم تَصِلُوا أرحامَكم، فإنه لا قُرْبَ لرَحِمٍ إذا قُطِعَت وإن كانت قريبةً، ولا بُعْدَ لها إذا وُصِلَت وإن كانت بعيدةً"(2).هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يخرجه واحدٌ منهما، وإسحاق بن سعيد: هو ابن عمرو بن سعيد بن العاص قد احتجَّ البخاري بأكثر رواياته عن أبيه(3). ولهذا الحديث شاهد مَخرَجُ مثلِه في الشواهد:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 301 - على شرط البخاري
انگریزی ترجمہ
Ibn Abbas narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Learn your lineages so that you can maintain your ties of kinship. For there is no closeness in kinship when it is severed, even if it is near; and there is no distance in kinship when it is maintained, even if it is far." Al-Hakim said: This hadith is sound according to the conditions of al-Bukhari, though neither of the two Shaykhs included it.
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کسی دور کی رشتہ داری کا حوالہ دیا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اپنے نسب کو پہچانو تاکہ تم صلہ رحمی کر سکو، کیونکہ رشتہ داری میں کوئی قربت نہیں رہتی اگر اسے توڑ دیا جائے خواہ وہ قریب ہی کیوں نہ ہو، اور اس میں کوئی دوری نہیں رہتی اگر اسے جوڑ لیا جائے خواہ وہ دور ہی کیوں نہ ہو۔“یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین میں سے کسی نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسحاق بن سعید (ابن عمرو بن سعید بن عاص) سے امام بخاری نے ان کے والد کے واسطے سے اکثر روایات لی ہیں۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 305]
