عربی (اصل)
فحدَّثَني عليُّ بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَنٍ، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن بشْر، حدثنا محمد بن عمرو، حدثني أبي، عن أبيه علقمة بن وَقَّاص قال: مرَّ به رجلٌ له شَرَفٌ وهو بسوق المدينة فسلَّمَ عليه، فقال له علقمةُ: يا فلانُ، إنَّ لك رَحِمًا ولك حقًّا، وإني رأيتُك تدخلُ على هؤلاء الأمراء فتتكلَّم عندهم بما شاء الله أن تَكلَّمَ، وإني سمعتُ بلال بن الحارث المُزَني صاحبَ رسول الله ﷺ يقول: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ أحدكم ليتكلَّم بالكلمة من رِضْوانِ الله، ما يظنُّ أن تبلُغ ما بَلَغَت، فيكتبُ الله له بها رضوانه إلى يوم يلقاهُ، وإنَّ أحدكم ليتكلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله، ما يظنُّ أن تَبلُغَ ما بَلَغَت، فيكتبُ الله عليه بها سَخَطَه إلى يوم يلقاه". قال علقمة: وَيحَكَ، فانظُر ماذا تقول، وماذا تكلَّمُ به، فرُبَّ كلامٍ مَنَعَني ما سمعتُه من بلال بن الحارث(2). قصَّر مالك بن أنس برواية هذا الحديث عن محمد بن عمرو، ولم يَذكُر علقمة ابن وقَّاص.
انگریزی ترجمہ
'Abdullah ibn 'Amr (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The merciful ones are shown mercy by the Most Merciful. Be merciful to those on earth, and the One in heaven will be merciful to you."
اردو ترجمہ
سیدنا علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس سے ایک معزز آدمی گزرا جب وہ مدینہ کے بازار میں تھے، اس نے انہیں سلام کیا تو علقمہ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارا (ہمارے ساتھ) قرابتی رشتہ بھی ہے اور ایک حق بھی ہے، اور میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ان امراء کے پاس جاتے ہو اور ان کے سامنے وہ گفتگو کرتے ہو جو اللہ چاہتا ہے کہ تم کرو، حالانکہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے صحابی سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک تم میں سے کوئی اللہ کی رضا مندی والی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ اتنی دور تک پہنچ جائے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اپنے ملنے کے دن تک اس کے لیے اپنی خوشنودی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی اللہ کی ناراضگی والی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کا اسے گمان نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اس پر اپنے ملنے کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔“علقمہ نے (نصیحت کرتے ہوئے) کہا: تم پر افسوس ہے! دیکھ کر بات کیا کرو کہ تم کیا کہہ رہے ہو، کیونکہ بسا اوقات وہ بات جو میں نے بلال بن حارث سے سنی ہے وہ مجھے (بہت کچھ) بولنے سے روک دیتی ہے۔امام مالک بن انس نے اس حدیث کی روایت محمد بن عمرو سے کرنے میں اختصار کیا ہے اور علقمہ بن وقاص کا ذکر نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 141]
