عربی (اصل)
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، مَوْلَى آلِ السَّائِبِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْغَائِطِ فَلَمَّا جَاءَ قُدِّمَ لَهُ طَعَامٌ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ تَوَضَّأُ . قَالَ " لِمَ أَلِلصَّلاَةِ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with them both) reported that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) went to the privy and when he came back, he was presented with food. It was said to him: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), would you not perform ablution?' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Why, am I to say prayer?'
اردو ترجمہ
محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو (یہ) کہتے ہوئے سنا: اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو کھانا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: ''کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟''
