عربی (اصل)
وَعَنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ»قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "While I was sleeping, I saw you (people) standing near a well. Abu Bakr took the bucket and drew one or two buckets with some weakness in his drawing, and Allah will forgive him. Then Ibn al-Khattab took the bucket. It turned into a very large bucket in his hand. I have never seen a leader do such excellent work among the people until they drank their fill and watered their camels at the watering-place." Reported by Muslim.
اردو ترجمہ
ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”میں سو رہا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ میرے سامنے پیش کیے گئے ہیں، ان پر قمیصیں تھیں، ان میں سے کسی کی قمیص سینے تک پہنچتی تھی، کسی کی اس سے چھوٹی تھی، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھ پر پیش کیے گئے، ان پر جو قمیص تھی وہ (چلتے وقت) اسے گھسیٹتے تھے۔“صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تاویل فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”(اس سے) دین مراد ہے۔“متفق علیہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6038]
