عربی (اصل)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: دخلتُ الجَنَّةَ فإِذا أَنا بالرُميضاء امْرَأَةِ أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشَفَةً فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: هَذَا بِلَالٌ وَرَأَيْتُ قَصْرًا بِفِنَائِهِ جاريةٌ فَقلت: لمن هَذَا؟ فَقَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهُ فَأَنْظُرَ إِليه فذكرتُ غيرتك فَقَالَ عمر: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَيْكَ أغار؟. مُتَّفق عَلَيْهِ
انگریزی ترجمہ
'Abdullah ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "While I was sleeping, I was given a cup of milk. I drank until I saw the moisture coming out of my nails, then I gave the rest to 'Umar." They asked: "What do you interpret this as, O Messenger of Allah?" He said: "Knowledge." Agreed upon.
اردو ترجمہ
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”(معراج کی رات) میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ رمیصاء کو دیکھا (نیز) میں نے قدموں کی آواز سنی تو میں نے پوچھا، یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ بلال ہیں، میں نے ایک محل دیکھا، اس کے صحن میں ایک لونڈی دیکھی، میں نے پوچھا:”یہ (محل) کس کے لیے ہے؟“انہوں نے بتایا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے لیے ہے، میں نے اس کے اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا تا کہ میں اسے دیکھ سکوں، لیکن مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی۔“عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! میرے والدین آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ سے غیرت کروں گا۔ متفق علیہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب المناقب/حدیث: 6037]
