عربی (اصل)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ. فَقَالَ عُمَرَ لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَو سترت نَفْسِكَ. قَالَ وَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ شَيْئًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَدَعَاهُ وتلا عَلَيْهِ هَذِه الْآيَة (أقِم الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَات يذْهبن السَّيِّئَات ذَلِك ذكرى لِلذَّاكِرِينَ) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا لَهُ خَاصَّة قَالَ: «بل للنَّاس كَافَّة» . رَوَاهُ مُسلم
انگریزی ترجمہ
‘Abdallah b. Mas'ud told of a man coming to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and saying, “Messenger of God, I sported with a woman on the outskirts of Medina, and I got what I wanted from her short of having intercourse with her. Now here I am, so decide what you wish about me.” ‘Umar said to him, “God has concealed this about you. Would that you had kept it to yourself!” Hadrat Ibn Mas'ud said that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) gave no reply, so the man got up and went away. Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sent a man after him to summon him, and he recited this verse to him. “And observe the prayer at the two ends of the day and the neighbouring parts of the night, for good deeds remove evil deeds. That is a reminder to those who remember (Al-Qur’an, 11:114).” One of the people asked, “Prophet of God, does this refer to him in particular?” He replied, “No, it refers to all men.” Muslim transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے مدینے کے باہر ایک عورت سے ہر قسم کی حرکت کی، صحبت کے سوا۔ اب میں حاضر ہوں، آپ جو فیصلہ چاہیں فرمائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ نے تمہاری پردہ پوشی کی تھی، خود بھی پردے میں رکھتے! نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، وہ شخص اٹھ کر چلا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلوایا اور یہ آیت تلاوت فرمائی: 'دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم رکھو، بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں، یہ یاد رکھنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔' لوگوں میں سے کسی نے پوچھا: اللہ کے نبی! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے؟ ارشاد فرمایا: نہیں، سب لوگوں کے لیے ہے۔ (مسلم)
