عربی (اصل)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَقُولُ الْكَلِمَةَ لَا يَقُولُهَا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهِ النَّاسَ يَهْوِي بِهَا أَبْعَدَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَيَزِلُّ عَنْ لِسَانِهِ أَشَدَّ مِمَّا يَزِلُّ عَنْ قَدَمِهِ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ(لم تتمّ دراسته)
انگریزی ترجمہ
Abu Hurairah reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said: "Beware of suspicion, for suspicion is the most lying form of speech. Do not spy, do not eavesdrop, do not compete with one another, do not envy one another, do not hate one another, and do not turn your backs on one another. Be, O servants of Allah, brothers."
اردو ترجمہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”بے شک بندہ محض لوگوں کو ہنسانے کے لیے بات کرتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے زمین و آسمان کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ دور جہنم میں گر جاتا ہے، اور وہ اپنے پاؤں کی طرف سے پھسلنے سے اتنا نہیں پھسلتا جتنا کہ وہ زبان کے پھسلنے سے پھسلتا ہے۔“اسنادہ ضعیف جذا، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4835]
