عربی (اصل)
وَعَنْهُ قَالَ: أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ فَقَالَ شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَطَبَخْتُهَا فِي الْقِدْرِ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ يَا أَبَا رَافِعٍ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ الْآخَرَ ثُمَّ قَالَ ناولني الذِّرَاع الآخر فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَا سَكَتُّ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ فَاهُ وَغَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ فَوَجَدَ عِنْدَهُمْ لَحْمًا بَارِدًا فَأَكَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً. رَوَاهُ أَحْمد وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ إِلَى آخِرِهِ
انگریزی ترجمہ
He also said that a sheep was presented to him and he put it in the pot. God’s messenger came in and asked, “What is this, Abu Rafi'?” He replied, “It is a sheep which has been presented to us, and I have cooked it in the pot.” He said, “Hand me the foreleg, Abu Rafi‘,” and he did so. He then said, “Hand me the other foreleg,” and he did so. He then said, “Hand me the other foreleg,” whereupon Abu Rafi‘ ex postulated that a sheep has only two forelegs. God’s messenger replied, “If you had remained silent, you would have handed me one foreleg after another as long as you kept silence.” He then called for water, rinsed his mouth and washed the tips of his fingers, after which he got up and prayed. Later he returned to them and finding that they had cold meat, he ate some, after which he entered the mosque and prayed without touching water. Ahmad transmitted it, and Darimi transmitted it from Abu ‘Ubaid, but did not include the passage from “He then called for water” to the end.
اردو ترجمہ
حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ انہیں ایک بکری ہدیہ میں ملی تو انہوں نے اسے ہانڈی میں ڈال دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: یہ کیا ہے ابو رافع؟ عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک بکری ہمیں ہدیہ ملی ہے، میں نے اسے ہانڈی میں پکایا ہے۔ ارشاد فرمایا: مجھے دست دو ابو رافع! انہوں نے دے دیا۔ پھر فرمایا: دوسرا دست دو، انہوں نے دے دیا۔ پھر فرمایا: اور دست دو۔ ابو رافع نے عرض کیا: بکری کے تو صرف دو دست ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم خاموش رہتے تو جب تک خاموش رہتے ایک کے بعد ایک دست دیتے رہتے۔ پھر آپ نے پانی منگوایا، کلی کی اور انگلیوں کے سرے دھوئے، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ بعد میں واپس آئے تو ٹھنڈا گوشت پڑا تھا، اس میں سے تناول فرمایا، پھر مسجد میں جا کر بغیر پانی لگائے نماز پڑھی۔ (احمد، دارمی)
