عربی (اصل)
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلَا أُبَالِي يَا ابنَ آدمَ إِنَّك لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ وَلَا أُبَالِي يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ لَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مغْفرَة ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas reported God’s messenger as stating that God has said, “Son of Adam (upon him be peace), as long as you supplicate me and hope in me I will pardon you in spite of what you have done, and I do not care. Son of Adam, if your sins were so numerous as to reach the lofty regions of the sky, then you asked my forgiveness, I would forgive you, and I do not care. Son of Adam, if you were to meet me with enough sins to fill the earth, then met me not associating anything with me, I would bring you as much pardon as would fill the earth.” Tirmidhi transmitted it, and Ahmad and Darimi transmitted it from Hadrat Abu Dharr. Tirmidhi said this is a hasan gharib tradition.
اردو ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے اور مجھ سے امید رکھے میں تجھے بخشتا رہوں گا جو تجھ سے ہوا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے مغفرت مانگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر گناہ لے کر میرے سامنے آئے پھر مجھ سے ملے اس حال میں کہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو میں تجھے اتنی ہی مغفرت عطا کروں گا۔ (ترمذی، احمد اور دارمی نے حضرت ابو ذر سے بھی روایت کیا، امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے)
