عربی (اصل)
وَعَن شَقِيق قَالَ: مرض عبد الله بن مَسْعُود فَعُدْنَاهُ فَجَعَلَ يَبْكِي فَعُوتِبَ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَبْكِي لِأَجْلِ الْمَرَضِ لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْمَرَضُ كَفَّارَةٌ» وَإِنَّمَا أبْكِي أَنه أَصَابَنِي عَلَى حَالِ فَتْرَةٍ وَلَمْ يُصِبْنِي فِي حَال اجْتِهَاد لِأَنَّهُ يكْتب للْعَبد من الْجَرّ إِذَا مَرِضَ مَا كَانَ يُكْتَبُ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَمْرَضَ فَمَنَعَهُ مِنْهُ الْمَرَضُ. رَوَاهُ رَزِينٌ
انگریزی ترجمہ
Shaqiq said he visited ‘Abdallah b. Mas'ud when he was ill, and he began to weep. On being reproved by someone he said, "I am not weeping because of the illness, because I heard God’s messenger say that illness is an atonement; I am weeping simply because it has come to me when my powers are weakened and did not come when I was active, because a servant of God has recorded for him such reward when he is ill as was being recorded for him before he became ill and the illness prevented him from doing .” Razln transmitted it.
اردو ترجمہ
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار ہوئے، ہم ان کی عیادت کو گئے تو وہ رونے لگے۔ جب ان سے اس پر عتاب کیا گیا تو فرمایا: میں بیماری کی وجہ سے نہیں رو رہا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بیماری گناہوں کا کفارہ ہے۔ بلکہ میں اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ بیماری مجھے سستی اور کمزوری کی حالت میں آئی ہے اور نشاط و قوت کے وقت نہیں آئی، کیونکہ اس وقت یہ زیادہ فائدہ مند ہوتی۔ (ترمذی)
