عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بَعْضِ، أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ النَّاسَ فِي سَفَرِهِ عَامَ الْفَتْحِ بِالْفِطْرِ وَقَالَ " تَقَوَّوْا لِعَدُوِّكُمْ " . وَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعَرْجِ ��َصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْعَطَشِ أَوْ مِنَ الْحَرِّ ثُمَّ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ طَائِفَةً مِنَ النَّاسِ قَدْ صَامُوا حِينَ صُمْتَ - قَالَ - فَلَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْكَدِيدِ دَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ .
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Hadrat Abu Bakr ibn Abd ar-Rahman, from Hadrat Abu Bakr ibn Abd ar-Rahman from one of the companions of the Beloved Messenger of Allah, that the Beloved Messenger of Allah ordered everyone to break the fast on the journey he made in the year of the conquest saying, "Be strong for your enemy," while the Beloved Messenger of Allah kept on fasting. Hadrat Abu Bakr said that the one who related this to him said, "I saw the Beloved Messenger of Allah pouring water over his head at al-Arj, either from thirst or from the heat. Then some one said to the Beloved Messenger of Allah 'Beloved Messenger of Allah, a group of people kept on fasting when you did.' Then when the Beloved Messenger of Allah was at al-Kadid, he asked for a drinking-bowl and drank, and everyone broke the fast."
اردو ترجمہ
بعض صحابہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حکم کیا لوگوں کو سفر میں جس سال مکہ فتح ہوا ہے روزہ نہ رکھنے کا فرمایا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تاکہ تم قوی رہو دشمن کے مقابلہ میں اور روزہ رکھا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن نے مجھ سے بیان کیا اس صحابی نے جس نے حدیث بیان کی مجھ سے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو عرج میں کہ پانی ڈالا جاتا تھا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر پیاس کی وجہ سے یا گرمی کی وجہ سے پھر کہا گیا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہ بعض لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ رکھنے کے سبب سے تو جب پہنچے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کدید میں ایک پیالہ پانی کا منگا یا اور پانی پیا تب لوگوں نے بھی روزہ کھول ڈالا ۔
