عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ لإِنْسَانٍ إِنَّكَ فِي زَمَانٍ كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ قَلِيلٌ قُرَّاؤُهُ تُحْفَظُ فِيهِ حُدُودُ الْقُرْآنِ وَتُضَيَّعُ حُرُوفُهُ قَلِيلٌ مَنْ يَسْأَلُ كَثِيرٌ مَنْ يُعْطِي يُطِيلُونَ فِيهِ الصَّلاَةَ وَيَقْصُرُونَ الْخُطْبَةَ يُبَدُّونَ أَعْمَالَهُمْ قَبْلَ أَهْوَائِهِمْ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ قُرَّاؤُهُ يُحْفَظُ فِيهِ حُرُوفُ الْقُرْآنِ وَتُضَيَّعُ حُدُودُهُ كَثِيرٌ مَنْ يَسْأَلُ قَلِيلٌ مَنْ يُعْطِي يُطِيلُونَ فِيهِ الْخُطْبَةَ وَيَقْصُرُونَ الصَّلاَةَ يُبَدُّونَ فِيهِ أَهْوَاءَهُمْ قَبْلَ أَعْمَالِهِمْ .
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Yahya ibn Said that Abdullah ibn Masud said to a certain man, "You are in a time when men of understanding (fuqaha) are many and Qur'an reciters are few, when the limits of behaviour defined in the Qur'an are guarded and its letters are lost, when few people ask and many give, when they make the prayer long and the khutba short, and put their actions before their desires. A time will come upon men when their fuqaha are few but their Qur'an reciters are many, when the letters of the Qur'an are guarded carefully but its limits are lost, when many ask but few give, when they make the khutba long but the prayer short, and put their desires before their actions."
اردو ترجمہ
یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا ایک شخص سے تم ایسے زمانے میں ہو کہ عالم اس میں بہت ہیں صرف لفظ پڑھنے والے کم ہیں عمل زیادہ کیا جاتا ہے قرآن کے حکموں پر اور لفظوں کا ایساخیال نہیں کیا جاتا پوچھنے والے کم ہیں جواب دینے والے بہت ہیں یا بھیک مانگنے والے کم ہیں اور دینے والے بہت ہیں لمبا کرتے ہیں نماز کو اور چھوٹا کرتے ہیں خطبہ کو نیک عمل پہلے کرتے ہیں اور نفس کی خواہش کو مقدم نہیں کرتے اور قریب ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ کم ہوں گے عالم اس وقت میں الفاظ پڑھنے والے بہت ہوں گے یاد کئے جائیں گے الفاظ قرآن کے اور اس کے حکموں پر عمل نہ کیا جائے گا پوچھنے والے اور مانگنے والے بہت ہوں گے اور جواب دینے والے اور دینے والے بہت کم ہوں گے لمبا کریں گے خطبہ کو اور چھوٹا کریں گے نماز کو اپنی خواہش نفس پر چلیں گے اور عمل نیک نہ کریں گے ۔
