عربی (اصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، قَدْ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ مَاتَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
انگریزی ترجمہ
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he had heard that Abd ar- Rahman ibn Abi Bakr was visiting Hadrat A'isha, the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), may AIIah bless him and grant him peace, on the day that Sad ibn Abi Waqqas died, and he asked for some water to do wudu. Hadrat A'isha said to him, ''Abd ar-Rahman! Perform your wudu fully, for I heard the Beloved Messenger of Allah say, 'Woe to the heels in the fire.' "
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جو شخص وضو کرے تو ناک چھنکے اور جو ڈھیلے لے تو طاق لے ۔ کہا یحیی نے سنا میں نے مالک سے کہتے تھے اگر کوئی شخص ایک ہی چلو لے کر کلی کرے اور ناک میں بھی پانی ڈالے تو کچھ حرج نہیں ہے ۔ امام مالک روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو پہنچا کہ عبدالرحمن بن ابی ابکر صدیق گئے ام المومنین کے پاس جس دن مرے حضرت سعد بن ابی وقاص تو منگایا عبدالرحمن نے پانی وضو کا پس کہا حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ نے پورا کرو وضو کو کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے خرابی ہے ایڑیوں کو آگ سے ۔
