عربی (اصل)
939 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلاً، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ لَهُ ذلِكَ؛ فَقَالَ: لاَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً عِنْدَ زَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ(يأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ)إِلَى(إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ)لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ لِقَوْلِهِ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلاً
انگریزی ترجمہ
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (peace be upon him) used to stay with Zaynab bint Jahsh and drink honey at her place. Aisha and Hafsah agreed that whichever of them the Prophet visited, she would say: "I detect the smell of maghafir (a foul-smelling gum) on you. Have you eaten maghafir?" When the Prophet visited one of them, she said this to him. He replied: "No, rather I drank honey at the house of Zaynab bint Jahsh, and I will never do so again." Then the verse was revealed: "O Prophet, why do you prohibit what Allah has made lawful for you?" (al-Tahrim: 1), up to "If you both repent to Allah" — addressing Aisha and Hafsah. And "when the Prophet confided to one of his wives" referred to his saying: "Rather, I drank honey."
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمام المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹھہرتے تھے اور ان کے یہاں شہد پیا کرتے تھے، چنانچہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے مل کر صلاح کی کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمہم میں سے جس کے یہاں بھی تشریف لائیں تو یہ کہا جائے کہ آپ کے منہ سے«مَغَافِيرُ»(ایک خاص قسم کی بدبودار گوند) کی بو آتی ہے، کیا آپ نے«مَغَافِيرُ»کھایا ہے؟ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماس کے بعد ہم میں سے ایک کے یہاں تشریف لائے تو اس نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے یہی بات کہی، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نہیں بلکہ میں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں شہد پیا ہے، اب دوبارہ نہیں پیوں گا“اس پر یہ آیت نازل ہوئی:﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾[سورة التحريم: 1]”اے نبی! آپ وہ چیز کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے“یہ سیدہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کی طرف خطاب ہے، اور﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا﴾[سورة التحريم: 3]میں لفظِ حدیث سے آپصلی اللہ علیہ وسلمکا یہی فرمانا مراد ہے کہ”میں نے مغافیر نہیں کھایا بلکہ شہد پیا ہے“۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 939]
