عربی (اصل)
913 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْىِ الْعَرَبِ، فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ، وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ، وَأَحْبَبْنَا الْعَزْلَ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ؛ وَقُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ؛ فَقَالَ: مَا عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلاَّ وَهِيَ كَائِنَةٌ
انگریزی ترجمہ
Narrated Abu Sa'id al-Khudri: We went out with the Messenger of Allah (peace be upon him) on the expedition of Banu al-Mustaliq. We obtained captives from among the Arab captives. We desired women and celibacy was hard upon us. We wanted to practice coitus interruptus (azl). We said: "Shall we practice it while the Messenger of Allah (peace be upon him) is among us without asking him?" So we asked him about it. He said: "It does not matter if you do not do it. Every soul that is destined to be born until the Day of Resurrection will be born."
اردو ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ غزوہ بنی المصطلق کے لیے نکلے، اس غزوہ میں ہمیں کچھ عرب کے قیدی ملے (جن میں عورتیں بھی تھیں)، پھر اس سفر میں ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور بے عورت رہنا ہم پر مشکل ہو گیا، دوسری طرف ہم عزل کرنا چاہتے تھے (اس خوف سے کہ بچہ نہ پیدا ہو)، ہمارا ارادہ یہی تھا کہ عزل کر لیں، لیکن پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمموجود ہیں، آپ سے پوچھے بغیر عزل کرنا مناسب نہ ہو گا، چنانچہ ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا:”اگر تم عزل نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ قیامت تک جو جان پیدا ہونے والی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب النكاح/حدیث: 913]
