عربی (اصل)
768 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى، فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ بِالْحَجِّ فَتَمَتَّعَ النَّاس مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى، فَسَاقَ الْهَدْيَ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ لِشَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لْيُهِلَّ بِالْحَجِّ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ فَطَافَ، حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ، وَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلاَثَة أَطْوَافٍ وَمَشَى أَرْبَعًا، فَرَكَعَ حِينَ قَضى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا، فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ، مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ
انگریزی ترجمہ
Narrated Ibn Umar (may Allah be pleased with them both): "The Messenger of Allah (peace be upon him) performed Tamattu' (combining Umrah with Hajj) during the Farewell Pilgrimage. He brought a sacrificial animal, driving it from Dhul-Hulayfah. The Messenger of Allah (peace be upon him) began by assuming Ihram for Umrah, then for Hajj. The people also performed Tamattu' with the Prophet (peace be upon him). Some of them brought sacrificial animals, while others did not. When the Prophet (peace be upon him) arrived in Makkah, he said to the people: 'Whoever among you has brought a sacrificial animal, nothing that has become forbidden for him shall become lawful until he completes his Hajj. Whoever has not brought a sacrificial animal should perform Tawaf of the House and Sa'y between Safa and Marwah, cut his hair short, and come out of Ihram. Then he should assume Ihram for Hajj. Whoever cannot find a sacrificial animal should fast three days during Hajj and seven days when he returns home.' When he arrived in Makkah, he performed Tawaf, touching the Black Stone first, then he walked briskly for three circuits and walked normally for four. After completing his Tawaf of the House, he prayed two Rak'ahs at the Station of Ibrahim, then gave the greeting of peace and went to Safa, performing Sa'y between Safa and Marwah seven circuits. He did not come out of anything that was forbidden for him until he completed his Hajj, slaughtered his sacrifice on the Day of Sacrifice, and performed the Tawaf of Ifadah. Then he became lawful from everything that had been forbidden for him. Those who brought sacrificial animals did the same as the Messenger of Allah (peace be upon him)."
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے حجۃ الوداع میں تمتع کیا یعنی عمرہ کر کے پھر حج کیا اور قربانی کی اور آپ ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ قربانی لے گئے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے پہلے عمرہ کے لیے احرام باندھا پھر حج کے لیے لبیک پکارا، لوگوں نے بھی نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تمتع کیا یعنی عمرہ کر کے حج کیا لیکن بہت سے لوگ اپنے ساتھ قربانی کا جانور لے گئے تھے اور بہت سے نہیں لے گئے تھے، جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممکہ تشریف لائے تو لوگوں سے کہا:”جو شخص قربانی ساتھ لایا ہو اس کے لیے حج پورا ہونے تک کوئی بھی ایسی چیز حلال نہیں ہو سکتی جسے اس نے اپنے اوپر (احرام کی وجہ سے) حرام کر لیا ہے لیکن جن کے ساتھ قربانی نہیں ہے تو وہ بیت اللہ کا طواف کر لیں اور صفا اور مروہ کی سعی کر کے بال ترشوا لیں اور حلال ہو جائیں، پھر حج کے لیے (از سر نو آٹھویں ذی الحجہ کو احرام باندھیں)، ایسا شخص اگر قربانی نہ پائے تو تین دن کے روزے حج ہی کے دنوں میں اور سات دن کے روزے گھر واپس آ کر رکھے۔“جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممکہ پہنچے تو سب سے پہلے آپ نے طواف کیا، پھر حجر اسود کو بوسہ دیا، تین چکروں میں آپ نے رمل کیا اور باقی چار میں معمولی رفتار سے چلے، پھر بیت اللہ کا طواف پورا کر کے مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی، سلام پھیر کر آپ صفا پہاڑی کی طرف آئے اور صفا اور مروہ کی سعی بھی سات چکروں میں پوری کی، جن چیزوں کو (احرام کی وجہ سے اپنے اوپر) حرام کر لیا تھا ان سے اس وقت تک آپ حلال نہیں ہوئے جب تک حج بھی پورا نہ کر لیا اور یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) میں قربانی کا جانور بھی ذبح نہ کر لیا، پھر آپ (مکہ واپس آئے) اور بیت اللہ کا جب طوافِ افاضہ کر لیا تو ہر وہ چیز آپ کے لیے حلال ہو گئی جو احرام کی وجہ سے حرام تھی، جو لوگ اپنے ساتھ ہدی لے کر گئے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے کیا تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 768]
